1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں حکومت مخالفین کے تعاقب کی طویل المیعاد مہم

حال ہی میں چین میں حکومت کے ایک ناقد فنکار اور ادیب کو گرفتار کر لیا گیا۔ 53 سالہ آئی وے وے کی گرفتاری گزشتہ اتوار، تین اپریل کو عمل میں لائی گئی تھی، جس کے بعد سے اُن کی کوئی خبر نہیں ہے۔

default

چینی فنکار آئی وے وے

آئی وے وے کا شمار چین کے اُن متعدد وکلاء، مصنفین اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں میں ہوتا ہے، جنہیں گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا۔ چین میں پائی جانی والی اس صورتحال پر انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے گروپوں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز معروف چینی فنکار آئی وے وے کے مستقبل کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ بیجنگ انتظامیہ باقی ماندہ حکومت مخالفین کا تعقب مزید سختی کے ساتھ کر رہی ہے اور ناقدین کی آواز دبانے کی ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Ausstellung So Sorry von Ai Weiwei in München

2009 میں جرمن شہر میونخ میں آئی وے وے کے فن پاروں کی نمائش کا انعقاد ہوا تھا

ہانگ کانگ میں قائم ہیومن رائٹس واچ کے ایک سرکردہ کارکُن نکولاس بیکویلین کے بقول آئی وے وے کی گرفتاری دراصل چینی حکام کی طرف سے جاری حکومت کے ناقدین کے خلاف طویل المیعاد مہم کا حصہ ہے۔ اُن کے بقول ’یہ ایک واضح سگنل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والے لی ژیا باؤ کی گرفتاری کس طرح عمل میں لائی گئی۔ اُس وقت بھی یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ ژیا باؤ کو ان کی عالمی شہرت تحفظ فراہم کرے گی۔ آئی وے وے کی گرفتاری کا مقصد چین کے نسبتاً کم شہرت یافتہ لبرل مفکرین کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے پر مجبور کرنا ہے‘۔

اُدھر چینی حکومت نے آئی وے وے کی گرفتاری پر ہونے والی عالمی تنقید کو بُدھ کے روز سختی سے رد کر دیا ہے۔ چینی سرکاری اخبار The Global Times میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں آئی وے وے کو ایک ایسا خود پسند شخص قرار دیا گیا ہے، جسے ملکی قوانین کے احترام سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں۔ اسی چینی روزنامے میں ایسے بیانات بھی شائع ہوئے ہیں کہ مغرب چین کی استحکام اور معاشرتی اقدار کو پامال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

China Kunst Atelier von Ai Weiwei wird abgerissen in Schanghai

شنگھائی میں آئی وے وے کے اسٹوڈیو کو منہدم کر دیا گیا

آئی وے وے کا شمار حکومت کے سخت ترین ناقدوں میں ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے جرمنی کے پبلک نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ایسے ناقدین پر جبر اور ان کے خلاف زیادتیوں کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا ’میرے گھر کے بالکل سامنے دو تفتیشی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس انٹرویو کے بعد پولیس پھر میرے پاس بات چیت کے لیے آئی۔ میری تمام ٹیلی فون گفتگو سُنی جاتی ہے۔ ٹویٹر کے تمام پیغامات پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ میرا بینک اکاؤنٹ، ای میل اکاؤنٹ اور اُن تمام لوگوں کے کوائف جو مجھ سے رابطے میں ہیں، پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے‘۔

تمام تر قدغنوں اور پابندیوں کے باوجود آئی وے وے نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ برلن میں اپنا دوسرا اسٹوڈیو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اپنے ریڈیو انٹرویو میں انہوں نے یہ ضرور کہا تھا کہ وہ بیجنگ میں بطور فنکار اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفےٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس