1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں حکمران کمیونسٹ پارٹی کا اعلیٰ اجلاس شروع

چین میں کمیونسٹ پارٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیر چوبیس اکتوبر سے شروع ہو گیا۔ اس چار روزہ اجلاس میں پارٹی میں نظم و ضبط، انتظامی امور اور جماعتی ڈھانچے جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے چینی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے اس اجلاس میں چار سو اعلیٰ اراکین  شرکت کر رہے ہیں، جس دوران پارٹی کارکنوں کے روزانہ کے سیاسی معمولات پر بھی بحث کی جائے گی۔ یہ اہم اجلاس ایک ایسے وقت پر شروع ہوا ہے، جب پارٹی سربراہ اور صدر شی جن پنگ پارٹی کے انتظامی ڈھانچے پر اپنی گرفت مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں ہیں۔

چینی فوج میں پہلی بار اینٹی کرپشن اہلکار تعینات

چین امن کا داعی ہے، شی جن پنگ

شی جن پنگ چين کے نئے صدر نامزد

اس اجلاس کو پارٹی کارکن ’سِکستھ پلینَم‘ (Sixth Plenum) قرار دے رہے ہیں، جس میں پارٹی کے تشخص میں واضح تبدیلی کا امکان ہے۔ ایسے اندازے بھی ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری شی جن پنگ اجلاس میں کئی نئے اقدامات متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

چینی امور کے ماہر Trey McArver نے اس اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس سال کا یہ اجلاس چینی صدر شی جن پنگ کے مستقبل کی سیاسی منصوبہ بندی کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہو گا۔ یہ ان کی پہلی صدارتی مدت کے لیے بھی بہت زیادہ اہم ہو گا۔‘‘

میکارور نے کہا، ’’یہ بات یقینی معلوم ہوتی ہے کہ صدر شی جن پنگ اس دوران پارٹی پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔‘‘ یہ امر اہم ہے کہ سن دو ہزار بارہ میں کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے شی جن پنگ نے پارٹی میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی خاطر متعدد اقدامات کیے ہیں۔ وہ ماؤزے تُنگ کے بعد ایسے پہلے چینی رہنما قرار دیے جاتے ہیں، جنہوں نے پارٹی کی مختلف سطحوں پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی سب سے زیادہ کوشش کی ہے۔

China Peking Staatsbesuch Philippine President Rodrigo Duterte visits China (picture-alliance/dpa/Ng Han Guan)

چین میں حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کی تعداد اٹھاسی ملین ہے

چینی نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق اس اجلاس میں ’غیر معمولی مسائل‘ پر توجہ مرکوز کی جائے گی جبکہ ساتھ ہی اعلیٰ اور سرکردہ رہنماؤں کو بھی مجبور کیا جائے گا کہ وہ چھوٹے پارٹی اہلکاروں کے لیے خود ایک اچھی مثال ثابت ہوں۔

مبصرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کی نگرانی کڑی کی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی مزید طاقت ور بنایا جا سکتا ہے۔ چین میں حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کی تعداد اٹھاسی ملین ہے۔

DW.COM