1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’چین میں جرمن چانسلر کے لیے ایک اعزاز‘

آج جمعے کی صبح جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مشرقی چینی صوبے انہوئی کا دورہ کیا۔ انہیں اس دورے کی دعوت چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے دی تھی۔ اس موقع پر بیس جرمن تاجروں پر مشتمل ایک وفد بھی ان کے ہمراہ تھا۔

جرمن چانسلر انگلیلا میرکل کے دورہ چین کے دوسرے روز وزیر اعظم لی کی چیانگ نے انہیں’ انہوئی‘ صوبے کے دورے کی دعوت دی۔ یہ صوبہ وزیراعظم لی کا آبائی علاقہ ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انہوں نے کسی غیر ملکی وفد کو اس علاقے کی دعوت دی ہے، جسے ایک اعزاز سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر میرکل اور لی کی چیانگ مقامی ہیفی یونیورسٹی بھی گئے، جہاں انہوں نے اس تعلیمی ادارے کی سترہ مختلف جرمن یونیورسٹیوں کے ساتھ تبادلے اور شرکت داری کے تیس برس پورے ہونے پر منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی۔

اس تقریب کے دوران میرکل اور لی نے دونوں ممالک کے مابین نوجوانوں طالب علموں اور تعلیمی تبادلے کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعائدہ کیا۔

بعد ازاں جرمن چانسلر شین فو نامی ایک گاؤں میں بھی گئیں، جہاں پر انہوں نے بیجنگ حکومت کی ان کوششوں کا جائزہ لیا، جو غربت کے شکار افراد کو اس چنگل سے نکالنے کے لیے کی جارہی ہیں۔ اس کے بعد انگیلا میرکل نے جرمن اور چینی تاجروں کے مابین ہونے والی ایک اجلاس میں شرکت کی۔

جمعرات کو روز جرمنی اور چین کے مابین سترہ ارب کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ اس موقع پر میرکل نے بحیرہ جنوبی چین میں بیجنگ حکومت اور خطے کے دیگر ممالک کے مابین ملکیت کے تنازعہ پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ’’ میں اس معاملے میں ہمیشہ سے کچھ پریشان ہوں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کثیر الاقوامی عدالتوں سے کیوں رجوع نہیں کیا جاتا‘‘۔ جرمن چانسلر میرکل نے مزید کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ تجارت کے سمندری راستے اسی طرح محفوظ اور آزاد رہیں کیونکہ یہ خطے کے تمام ممالک کے لیے یکساں اہم ہیں۔

جرمنی پورپ میں چین کا اہم ترین تجارتی ساتھی ہے۔چین میں جرمن صنعت و تجارت کے بیان کے مطابق 2014ء میں دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم اپنی ریکارڈ حد تک پہنچ گیا تھا۔