1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں تیز رفتار ریل گاڑیوں کی ٹکر سے متعدد ہلاکتیں

چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ Zhejiang میں دو تیز رفتار ریل گاڑیوں کے تصادم کے سبب کم از کم 35 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس حادثے نے چین میں تیزی سے عام ہوتے ریلوے نظام کی سلامتی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

default

حادثہ دارالحکومت بیجنگ سے 860 میل کی دوری پر واقع وینژو Wenzhou نامی شہر کے ایک پل پر پیش آیا۔ حکام کے بقول ایک تیز رفتار ریل گاڑی بجلی منقطع ہونے کے سبب ٹریک پر کھڑی تھی، پیچھے سے آنے والی بُلٹ ٹرین کے ڈرائیور کو خبر نہ ہوئی اور وہ وقت پر گاڑی نہ روک سکا، جس کے سبب یہ حادثہ ہوا۔

ریلوے ذرائع کے مطابق آسمانی بجلی گرنے کے سبب ٹریک پر بجلی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوگیا تھا، اسی سبب سلامتی کا وہ خودکار نظام بھی کام نہ کرسکا جو آنے والی ریل گاڑی کو پٹری پر موجود ریل گاڑی کے بارے میں خبردار کرسکتا۔ چین کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق حادثے کے مقام پر دو بوگیاں پل سے نیچے گر گئیں۔ سرکای خبر رساں ادارے کے مطابق 200 سے زائد متاثرہ مسافروں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والی ایک ریل گاڑی بیجنگ سے ساحلی شہر فیوژو Fuzhou کی جانب جا رہی تھی جبکہ دوسری ہانگژو سے فیوژوکی جانب گامزن تھی۔ حادثے میں زخمی ایک مسافر نے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’’ ریل گاڑی اچانک ایک زور دار جھٹکے سے رُک گئی، بوگیوں کے اندر مسافروں کا سامان بکھر گیا، مسافر چیخ و پکار کرتے رہے مگر عملے کا کوئی بھی رکن مدد کو نہیں پہنچا۔‘‘

چین میں ریلوے نظام کو جدید کرنے کا سلسلہ جاری ہے

چین کے محکمہء ریلوے نے ملک بھر میں ریلوے ٹریکس پر سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ چینی حکومت ریل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر چکی ہے۔ مستقبل میں بھی کئی سالوں تک اس ضمن میں ہر سال 120 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ ہے۔

بیجنگ اور شنگھائی کے درمیان گزشتہ ماہ متعارف کروائی گئی تیز رفتار ریلوے لائن پر اب تک بجلی منقطع ہونے کے تین واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ اس ٹریک کو 2015ء تک 45 ہزار کلومیٹر تک پھیلانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ چینی شہریوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے ملکی ریلوے نظام پر تنقید کرتے ہوئے جاپان سے سبق سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جہاں گزشتہ کئی برسوں سے کسی بڑے حادثے کے بغیر تیز رفتار ریل گاڑیاں چل رہی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت :افسر اعوان

DW.COM