1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں تحریک برائے جمہوریت کے کچلے جانے کے 20 سال

آج سے بيس سال قبل چين ميں تحريک جمہوريت کو کچلنے کے دوران کتنے افراد ہلاک ہوئے تھے، يہ ابھی تک صحيح طور پر معلوم نہيں ہوا ہے۔تاہم ، مظاہرين کے خلاف وحشيانہ کارروائی کی تصاوير نے دنيا بھر ميں احتجاج کی لہر دوڑا دی تھی۔

default

تحریک کو طاقت کے بل بوتے پر کچل دیا گیا تھا

ان تصاویر کی اشاعت کےساتھ ہی يہ چين کے بارے ميں مغربی دنيا کے تصور ميں تبديلی کا ايک موڑ بھی تھا۔ جب جون 1989ء ميں بيجنگ کے ابدی امن کے چوک پر ٹينک دندنا رہے تھے تو ساری دنيا يہ منظر ديکھ رہی تھی۔اگرچہ اس زمانے ميں صرف چند ہی خبر رساں اداروں کے مستقل نمائندے بيجنگ ميں ہوا کرتے تھے ، ليکن اس کے باوجود شہر صحافيوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی وجہ يہ تھی کہ عالمی پريس کے نمائندے ايک تاريخی دورے کی رپورٹنگ کے لئے وہاں گئے ہوئے تھے۔ مئی 1989ء ميں، ميخائيل گورباچوف کا دورہ،تيس برسوں ميں کسی سوويت سربراہ رياست کا ،چين کا پہلا دورہ تھا۔

China 1989 Platz des Himmlischen Friedens Tian'anmen-Platz Pro-Demokratie Demonstranten vor ausgebrannten Panzern in Peking

ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد اب تک دنیا کو معلوم نہیں

جرمن صحافی اور ايشيائی امور کے ماہر Sven Hansen کے مطابق صحافيوں نے جلد ہی يہ محسوس کر ليا کہ اگرچہ گورباچوف کا دورہ اہم تھا، ليکن ان کے سامنے اس سے بھی زيادہ اہميت کے تاريخی واقعات رونما ہو نے والے تھے۔اس لئے بہت سے صحافی گورباچوف کے رخصت ہونے کے بعد بھی بيجنگ ميں ہی ٹھہرے رہے۔ تب چينی طلباء پچھلے کئی ہفتوں سے تياننمن چوک پر دھرنا دئے بيٹھے تھے۔

وہ کميونسٹ پارٹی کے عہديداروں کی من مانی کرنے کی پاليسی،کرپشن، آئینی رياست کی عدم موجودگی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کر رہےتھے۔

چار جون کو جب چينی حکومت نے اس احتجاج کو خونریز کارروائی کے ذریعےکچلا تو غيرملکی صحافيوں نے اس بارے ميں live رپورٹنگ کی۔

خارجہ سياست کی جرمن سوسائٹی کے ،چينی امور کے ماہر Sandschneider نے کہا : ’’چين ميں جب بھی سياسی قيادت کو کوئی خطرہ محسوس ہوا،چينی فوج نے عوام پر گولی چلا دی۔نئی بات يہ تھی کہ اس مرتبہ يہ سب کچھ عالمی پريس کے کيمروں کے سامنے ہو رہا تھا۔‘‘

China 1989 Platz des Himmlischen Friedens Tian'anmen-Platz Soldaten der Volkksbefreiungsarmee in Peking

اس تحریک کو کچلنے کے لئے حکومت نے ٹینکوں تک کا استعمال کیا تھا

ہلاک اور زخمی ہونے والے طلباء اور ٹينکوں تلے کچلی ہوئی سائيکلوں کی تصاوير پوری دنيا نے ديکھيں۔ بہت سے ملکوں نے چين پراقتصادی پابندياں لگا ديں ليکن اس کے ايک سال بعد ہی يورپی يونين کے ملکوں نے اقتصادی پابندياں اٹھا ليں۔ مغربی ملکوں کو يہ سمجھنا پڑا کہ مسلسل زيادہ طاقتور ہوتے ہوئے چين پر اقتصادی پابندياں لگانا مشکل ہے۔ جرمن ماہر Hansen نے کہا : ’’اس کے علاوہ يہ بھی ہے کہ مغربی ملک اقتصادی تجارتی ميدان ميں ایک دوسرے کے حريف ہيں اور چين ایک بہت بڑی منڈی ہے، جس کے لئے آپس ميں بڑا سخت مقابلہ ہے۔‘‘

اس کے باوجود Hansen کا کہنا ہے کہ بيس سال قبل چين میں تحريک جمہوريت کے کچلے جانے کے بعد چين کے بارے ميں مغربی دنيا کے تصور ميں ايک بنيادی تبديلی آئی۔اس سے پہلے مغرب ميں کوئی بھی چين ميں انسانی حقوق کی بات نہيں کرتا تھا، ليکن اس کے بعد سب ہی اس کا ذکر کرنے لگے ہيں۔