1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں بچہ گود لینے کے قوانین سخت بنانے کا منصوبہ

چین کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ بیجنگ حکومت ملک میں بچوں کی اسمگلنگ اور غیرقانونی طور پر بچہ گود لینے کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین بنانے پر غور کر رہی ہے۔

default

حکومت کی بچوں کو گود لینے سے متعلق امور کی ایجنسی کی سربراہ جی گانگ نے ڈیلی چائنہ نامی اخبار کو بتایا کہ اس سال کے آخر میں نیا قانون پیش کر دیا جائے گا، جس میں صرف سرکاری یتیم خانے ہی بچوں کو قانونی طور پر گود لے سکیں گے۔

جی گانگ نے بتایا کہ موجودہ قانون کے مطابق چینی شہری اپنی عمر، صحت اور آمدنی کو مدنظر رکھتے ہوئے بچہ گود لے سکتے ہیں، بہت سے حالات میں کچھ لوگ ہسپتالوں سے اور کچھ اپنے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر بچے گود لے لیتے ہیں۔ ’’کچھ لوگ اس سسٹم سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ ان میں خاندانی منصوبہ بندی کا عملہ بھی شامل ہے، جو ان خاندانوں سے وہ بچے لے لیتا ہے، جہاں غیر قانونی طور پر ایک سے زیادہ بچے ہوں۔ ان سے لے کر وہ آگے بچے فروخت کر دیتے ہیں۔‘‘

Flash-Galerie China Baby Milch Skandal Sanlu

آئندہ صرف سرکاری یتیم خانے ہی بچوں کو قانونی طور پر گود لے سکیں گے

مئی میں ہونان کے مرکزی صوبے کے غریب لوگوں نے حکام کو بتایا تھا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے محکمے کے کچھ لوگ ان سے قانونی طور پر منظورکردہ بچے چھین کر لے گئے ہیں۔

جی کانگ کے محکمے کی ایک مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شونگ چنگ کے مرکزی علاقے میں تقریبا 30 ملین کی آبادی میں 1992ء سے لے کر 2005ء تک 19.800 بچے غیر قانونی طور پر جبکہ پانچ ہزار ایک سو بچے قانونی طور پر گود لیے گئے۔

جی گانگ نے اخبار کو بتایا کہ خاص طور پر غریب علاقوں میں غیر قانونی طور پر بچہ گود لینے کا سلسلہ کافی گھمبیر ہوتا جا رہا ہے اور حکومت کے کام کو مشکل بنا رہا ہے۔

جی گانگ نے بچوں کو گود لینے کے مسئلے کو ایک پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی طور پر گود لیے جانے والے بچوں سے جبری مشقت سمیت دیگر کام لیے جاتے ہیں، جو متعدد معاشرتی اور سماجی مسائل کا باعث ہیں۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM