1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

چین میں برڈ فلو وائرس کے باعث مزید 37 افراد ہلاک

چین میں برڈ فلو وائرس کے باعث مزید 37 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بیجنگ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ہلاکتیں مئی میں ہوئیں اور یوں گزشتہ برس اکتوبر سے لے کر مئی کے آخر تک اس وائرس کے ہاتھوں ہلاکتوں کی تعداد 268 ہو گئی۔

بیجنگ سے پیر بارہ مئی کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق  چین کے صحت عامہ اور فیملی پلاننگ کے قومی کمیشن نے آج بتایا کہ مئی کے مہینے میں برڈ فلو کے مہلک وائرس کے باعث مزید تین درجن سے زائد شہری ہلاک ہو گئے۔

اس طرح نہ صرف گزشتہ برس اکتوبر سے لے کر مئی کے آخر تک اس وائرس کے باعث انسانی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 268 ہو گئی ہے بلکہ اس سال کے دوران گزشتہ تین ماہ کے عرصے میں اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد بھی 108 ہو گئی ہے۔

برڈ فلو کی وبا کے انسانوں میں منتقل ہونے کا خطرہ موجود ہے

روئٹرز نے لکھا ہے کہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک چین میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی وجہ وہ H7N9 نامی وائرس بنا، جو زندہ مرغیوں میں پایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ خدشات بھی مزید شدید ہو گئے ہیں کہ یہ وائرس چین میں مزید شہریوں کی جانیں بھی لے سکتا ہے اور یہ صورت حال ایک بڑی وبا کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔

اسی لیے چین کے نیشنل ہیلتھ اینڈ فیملی پلاننگ کمیشن نے شہریوں  کو خبردار کیا ہے کہ وہ زندہ مرغیوں سے دور رہیں۔ ہیلتھ کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ اس وائرس نے سب سے زیادہ کس چینی صوبے کو متاثر کیا اور زیادہ تر ہلاکتیں کن علاقوں میں ہوئیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ایچ سیون این نائن نامی یہ وائرس اب تک کے مشاہدے کے مطابق موسم سرما اور موسم بہار میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور موسم گرما میں اس کا پھیلاؤ مقابلتاﹰ کم رفتار سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں مئی کے آخری دو ہفتوں کے دوران اس وائرس کا شکار ہونے والے شہریوں کی مجموعی تعداد اس سے پہلے کے مقابلے میں کم رہی، جس کا سبب ممکنہ طور پر گرمی میں اضافہ رہا ہو گا۔

چین کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ دنیا بھر میں برائلر چکن پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے اور مرغیوں کا گوشت کھائے جانے کے حوالے سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک۔ گزشتہ برس سردیوں میں چین کے پانچ مختلف علاقوں میں مرغیوں میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی تھی، جس کے بعد سے اب تک قریب پونے دو لاکھ مرغیوں کو تلف کیا جا چکا ہے۔

DW.COM