1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں انٹرنیٹ پابندیاں، مزید سختی کا مطالبہ

چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سرپرستی میں شائع ہونے والے ایک اخبار نے حکومت کو تلقین کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر رائے کی آزادی پر مزید قدغن لگائے، بصورت دیگر ملک پر کمیونسٹ پارٹی کا کنٹرول خطرے میں پڑ جائے گا۔

default

کمیونسٹ پارٹی کے متعدد مصنفین نے اخبار میں شائع ہونے والے ایک حالیہ تبصرے میں کہا ہے کہ چینی حکومت کو انٹرنیٹ ضوابط میں مزید سختی لانی چاہیے۔ جمعہ کے روز شائع ہونے والے اس مضمون میں ان مصنفین کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے حکومت مخالف رائے رکھنے والے افراد ’سیاسی بے چینی‘ پیدا کر سکتے ہیں۔

پیپلز ڈیلی نامی اخبار میں شائع ہونے والے اس طویل تبصرے میں کہا گیا ہے کہ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹس بشمول ٹوئٹر، عوام میں رائے کی تبدیلی اور کسی نکتے پر عوامی سوچ کے مجتمع ہو جانے کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جانے چاہیں۔ واضح رہے کہ روزنامہ پیپلز ڈیلی، کمیونسٹ پارٹی کی زیرسرپرستی شائع ہونے والے اخبارات میں انتہائی نمایاں ہے۔ 

اس سے قبل چینی حکام اور میڈیا نے متعدد مرتبہ یہ شکایات کی ہیں کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ’افواہیں‘ پھیلتی ہیں۔ تاہم اس تبصرے میں آزادی رائے کے خلاف یہ تحریر کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ’حکومت دشمنوں‘ کو جمع ہونے اور عوام میں اشتعال پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تبصرے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے ’مخالفین‘ انٹرنیٹ کی مناسبت سے بیجنگ حکومت کے کم سخت ضوابط کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ’حکومت مخالف‘ رائے عوام میں پھیلانے میں مصروف ہیں۔

Google China

چین میں سرچ انجنز پر بھی فلٹر لگائے گئے ہیں

اس تبصرے میں حکومت کو مشورے بھی دیے گئے ہیں کہ وہ کس طرح اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے۔ تبصرے میں کمیونسٹ پارٹی کے تھیورٹیکل جرنل یا نظریاتی جریدے’ کیوشی (Qiushi) یعنی ’سچ کی تلاش‘ سے وابستہ ان لکھاریوں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ پر جاری کردہ ’متنازعہ‘ بیانات میں زیادہ تر منظم طریقے سے پھیلائے جاتے ہیں۔

تبصرے میں یہ تحریر ہے، ’جب تک حکومت کی گرفت کمزور ہے، جرائم پیشہ قوتیں عوامی جذبات سے کھیلتی رہیں گی اور اپنی فضول رائے کے ذریعے عوامی سوچ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کرتی رہیں گی، جس سے سماجی استحکام اور قومی سلامتی خطرے میں رہے گی۔‘‘

ماہرین کے مطابق یہ تبصرہ یقینی طور پر زیادہ قدامت پسند سوچ کا مظہر ہے تاہم اس سے یہ بات واضح ہے کہ بیجنگ حکومت انٹرنیٹ پر پہلے سے عائد پابندیوں کو مزید سخت بنا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ چین میں ممتاز غیر ملکی سائٹس پر پہلے ہی سخت پابندیاں عائد ہیں اور خاص فلٹرز کی مدد سے ان سائٹس پر موجود ایسے تمام مواد کو سنسر کر دیا جاتا ہے، جسے چینی حکومت اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہو۔ اس سلسلے میں فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پر جاری ہونے والے مواد کو فلٹر کرنے کے لیے خصوصی نظام قائم ہے۔

یہ بات انتہائی قابل ذکر ہیں کہ دنیا بھر میں گزشتہ کچھ برسوں میں بائیکرو بلاگ کی پزیرائی میں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جون کے آخر تک ان مائیکرو بلاگز کے صارفین کی تعداد 195 ملین کے قریب تھی۔ سن 2010 کے مقابلے میں اس تعداد میں 209 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عابد حسین

DW.COM