1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں انسانی حقوق کا مسئلہ اور وزیر اعظم وین کا دورہ برلن

چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ اپنے ہمراہ اپنی کابینہ کے تیرہ وُزراء لے کر جرمنی آئے ہیں۔ آج برلن میں دونوں حکومتوں کے مابین اپنی نوعیت کے پہلے جامع مذاکرات میں تجارت اور معیشت کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق پر بھی بات ہو رہی ہے۔

آئی وے وے کے حق میں احتجاج

آئی وے وے کے حق میں احتجاج

مشہور چینی آرٹسٹ آئی وے وے اور حقوق انسانی کے لیے سرگرم کارکن ہو جیا کو تو سخت شرائط کے ساتھ رہا کر دیا گیا ہے تاہم کارکنوں اور منحرفین کی ایک بڑی تعداد کے لیے حالات بدستور سخت ہیں۔

ایک ہفتہ قبل آئی وے وے کی رہائی ذرائع ابلاغ کی زبردست توجہ کا مرکز بنی۔ رپورٹر اس مشہور آرٹسٹ کا انٹرویو لینے کے لیے گھنٹوں اُس کے گھر کے سامنے موجود رہے تاہم بالآخر اُنہیں مایوسی ہوئی، جب آئی وے وے نے یہ بات کہی:’’میں بات نہیں کر سکتا۔ مجھے کچھ بھی کہنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘

اس سے زیادہ اس مشہور چینی فنکار نے کچھ نہیں کہا۔ اُسے رہا تو کر دیا گیا ہے لیکن اُس کی زبان بند کر دی گئی ہے۔ یہی کچھ انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن ہو جیا کے ساتھ ہوا، جسے ساڑھے تین برس کی سزائے قید بھگتنے کے بعد گزشتہ ویک اینڈ پر رہا کر دیا گیا۔ ایک تحریری نوٹ میں ہو اور اُس کی اہلیہ نے لکھا کہ اُنہیں بہت محدود آزادی حاصل ہے۔ اُن کے گھر کے سامنے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود ہیں۔ یہ ایک طرح کی نظر بندی ہے کہ رہا ہیں بھی اور نہیں بھی۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن ہو جیا اپنی اہلیہ کے ساتھ

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن ہو جیا اپنی اہلیہ کے ساتھ

ہیومن رائٹس واچ کے نکولس بیکیولین کے مطابق یہ سب کچھ ایک خاص حکمت عملی کے تحت ہو رہا ہے:’’میرے خیال میں حکومت کی اس تکنیک کا مقصد باقاعدہ گرفتاری اور اُس سے جڑے احتجاج سے بچنا ہے، جیسا کہ ہم آئی وے وے کے سلسلے میں دیکھ بھی چکے ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کو برداشت بھی نہیں کیا جاتا کہ یہ لوگ انسانی حقوق کے حق میں آواز بلند کریں یا حکومت پر تنقید کریں۔‘‘

نکولس بیکیولین اور دیگر کے خیال میں ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ چینی قیادت منحرفین کے خلاف اپنے طرزِ عمل میں لچک پیدا کرے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اندازوں کے مطابق چین میں فروری سے لے کر اب تک تقریباً 130 افراد کو گرفتاریوں یا تعاقب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گرفتاریوں کی اس تازہ لہر کا تعلق احتجاج کی اُن اپیلوں سے ہے، جو عرب دُنیا میں انقلابی تحریکیں ابھرنے کے بعد سے چین میں بھی سنائی دینے لگی ہیں۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کا اندازہ ہے کہ چین میں سیاسی قیدیوں کی مجموعی تعداد پندرہ سو سے لے کر پانچ ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس