1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں اقتصادی ترقی کے اشارے

عالمی معاشی بحران کے باوجود چینی معشیت نے 2009ء کی آخری سہ ماہی میں مثبت اشارے دیئے ہیں۔ اس کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں اکتوبر سے لے کر دسمبر تک 10.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

default

یہ اضافہ سن 2008ء کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور گزشتہ دو سال میں تیز ترین۔ یہ شرح نمو متوقع اضافے 10.9 فیصد سے کچھ کم رہی لیکن یہ 2009ء نو کے تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں زیادہ ہے، جو9.1 فیصد بنتی ہے۔

شرح نمو کے اس اضافہ نے افراط زر کی صورت حال پرکچھ زیادہ اثر نہیں ڈالا جو دسمبر 2009 ء میں 1.9 فیصد رہا۔ چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کے کمشنر Ma Jiantang نے یہ اعدادوشمار جعمرات کو جاری کئے۔ ان کے مطابق شرح نمو میں یہ اضافہ چینی حکومت کی متوقع شرح نمو ،جو 8 فیصد تھی، سے بھی زیادہ رہا۔

Ma Jiantang کے مطابق عالمی معشیت میں بحرانی کیفیت کے پیش نظر حکومت نے ملکی معیشت کو تحریک دینے کے لئے ایک 586 بلین ڈالرکا اقتصادی پیکج دیا تھا اور شرح نمو میں یہ اضافہ اسی پیکج کا مرہون منت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شرح نمو کے باوجود حکومت کو اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ افراط زر 2010 ء میں قابل گرفت ہوگا۔

Wirtschaft in China ein Obdachlosser in Schanghai

اس ترقی سے چینی عوام کی صورتحال بھی بہتر ہونے کی امید ہے

ان اعدادوشمارکے مطابق چین کی صنعتی پیداوار میں 2009ء کی چوتھی سہ ماہی میں 18 فیصد اضافہ ہوا جب کہ پورے سال میں یہ شرح 11 فیصد رہی۔ اسی طرح 2009ء میں Retail Sales میں اضافہ 15.5 فیصد رہا۔ سال 2009ء کے دوران شہری انفرااسڑکچرکے پروجیکٹوں میں حکومتی سرمایہ کاری میں 30.5 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ اس مثبت شرح نمو نے ایک طرف تو اس بات کا امکان پیدا کیا ہے کی کہ بیجنگ مالیاتی معاملات کی نگرانی مزید سخت کرے گا۔

بتایا جا رہا ہے کہ شرح نمو کے اس اضافے کی بدولت چینی شہریوں کو مزید روزگار کے مواقع ملیں گے جس سے چین میں بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی کو کم کیا جا سکے گا۔ معروف معیشت دان Ren Xianfang کے خیال میں 2010ء میں چین کی شرح نمو 9.9 ہوگی اور یہ کہ چین جاپان کی جگہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن جائے گا۔

اس سے قبل JP Morgan سے منسلک معیشت دانوں مطابق چین میں 2010ء کے لئے شرح نمو کا تخمینہ 9.7 فیصد تھا جبکہ رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ (RBS ) کے اقتصادی ماہرین کا یہ تخمینہ 9.5 فیصد تھا۔ تاہم 2009 ء کے آخری سہ ماہی کے اعداد و شمار کے بعد ان دونوں اداروں نے 2010ء کے لئے چینی معشیت میں شرح نمو کا تخمینہ 10 فیصد لگایا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ چینی حکومت آنے والےچند مہینوں میں سخت مالیاتی پالیسی اپنائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسی پالیسی کے نفاذ کے بعد یہ دس فیصد کی شرح نمو حاصل ہوگی یا نہیں۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM