1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

چین میں آزادی صحافت کے قانون میں توسیع

چینی حکام نے اس قانون کی کچھ شقوں میں توسیع کر دی ہے جس کے مطابق چین میں غیر ملکی صحافیوں کو رپورٹنگ کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ سے متعلق یہ قوانین بیجنگ اولمپیائی مقابلوں سے قبل متعارف کروائے گئے تھے۔

default

چینی سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ بیجنگ اولمپیائی مقابلوں کے دوران ذرائع ابلاغ کی آزادی کے لئے وقتی طور پر متعارف کروئے جانے والے قوانین کےکچھ قواعدکو باقاعدہ قانونی شکل دے دی گئی ہے۔

ان نئے قواعد کےمطابق اب چین میں غیر ملکی صحافیوں کو مقامی باشندوں سے انٹرویو کرنے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں رہے گی۔ واضح رہے کہ اس نئے قانون کے متعارف کروانے سے قبل غیر ملکی صحافی جو چین میں مقامی لوگوں سے انٹر ویو کرنا چاہتے تھے انہیں خارجہ امور کے متعلقہ دفتر میں درخواست جمع کروانا پڑتی تھی۔

اس موقع پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان Liu Jianchao نے کہا کہ ان نئے قواعد میں بیجنگ اولمپیائی کھیلوں کے لئےمتعارف کروائے جانے والے قانون کی اصل روح کو برقرار رکھا گیا ہے۔ آزادی صحافت سے متعلق نئے قواعد اس وقت ایک پریس کانفرنس میں متعارف کروائے گئے جب اولمپیائی کھیلوں کے لئے وقتی طور پر متعارف کرائے گئے آزادی صحافت سے متعلق قوانین کے غیر موثرہونے میں پندرہ منٹ رہ گئے تھے۔ واضح رہے کہ بیجنگ اولمپیائی کھیلوں کے لئے یکم جنوری سن دو ہزار سات کو چینی حکومت نے قوانین متعارف کرائے تھے جو سترہ اکتوبر کوغیر موثر ہو جانا تھے۔

Liu نے کہاکہ اس قانون کے مطابق تیئس قواعد اب قانون کا حصہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نیا قانون سن انیس سو نوے میں لائے جانے والے قانون سے یکسر مختلف ہے۔

وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اب غیر ملکی صحافیوں کو چین میں مقامی باشندوں سے انٹرویو لینے کے لئے کسی خصوصی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اس نئے قانون کے مطابق غیرملکی صحافیوں کو اب رپورٹنگ کے لئے مقامی چینی انتظامیہ اور پولیس کے سامنے بھی پیش نہیں ہونا پڑے گا۔ تاہم اس نئے قانون کےمطابق بھی غیر ملکی صحافیوں کو تبت اور دیگر حساس علاقوں میں رپورٹنگ کے لئے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔

تیئس شقوں پر مشتمل ان نئے قواعد کے مطابق غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے ادارے رپورٹنگ کے لئے چین میں ریڈیو کمیونکیشن کے جدید آلات استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لئے انہیں ملکی قانون کےمطابق اجازت طلب حاصل کرنا ہوگی۔

چین حکومت کی طرف سے اس نئے قانون کو متعارف کروانے پر ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے اداروں اور نمائندوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔Foreigns Correspondents' Clup of China کے صدر جاناتھن واٹس نے کہا ہے کہ آزادی صحافت سے متعلق اس قانون پر اگر ٹھیک طریقے سےعمل کیا گیا تو چین میں ذرائع ابلاغ کی صورتحال میں واضح بہتری آئے گی۔