چین منی لانڈرنگ کا نیا مرکز | حالات حاضرہ | DW | 28.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین منی لانڈرنگ کا نیا مرکز

چین منی لانڈرنگ کا ایک نیا عالمی مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق رقوم کی غیر قانونی منتقلی کا یہ کام صرف چینیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا کے جرائم پیشہ افراد کے لیے بھی انجام دیا جا رہا ہے۔

اے پی کے مطابق چین میں کئی ایک ایسے طریقے دستیاب ہیں جن کے ذریعے کالے دھن کو سفید کیا جاتا ہے۔ یورپ اور امریکا میں ہونے والی حالیہ تحقیقات کے مطابق یہ کام ملک کے دو اہم ریاستی بینکوں، امپورٹ، ایکسپورٹ اسکیموں اور گزشتہ صدی کی تاریخیں استعمال کرتے ہوئے رقوم کی بے قاعدہ منتقلی کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

امریکی اور یورپی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے حکام کے مطابق چین میں منی لانڈرنگ کے مندردرجہ ذیل طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں:

- ایف بی آئی کے مطابق انٹرنیٹ پر یا سائبر جرائم کرنے والے بہت ہی ماہر افراد محض گزشتہ دو برسوں کے دوران ہزاروں مغربی کمپنیوں سے مجموعی طور پر 1.8 بلین ڈالرز ہتھیا چکے ہیں۔ اس کے لیے یہ افراد خود کو ان کمپنیوں کے ٹاپ سربراہان ثابت کرتے ہوئے رقوم ٹرانسفر کراتے ہیں۔ ایف بی آئی کے مطابق اسے اب تک متاثر ہونے والی کمپنیوں سے 13,500 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ جبکہ 2015ء کے دوران ایسے جرائم کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ایف بی آئی کے مطابق تحقیقات کے ذریعے یہ سائبر جرائم کرنے والے جن افراد کا پتہ چلایا جا چکا ہے وہ چینی شہری تو نہیں ہیں تاہم چوری شدہ رقوم کو سب سے زیادہ چین یا ہانگ کانگ میں قائم بینکوں کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیا گیا۔

- اسرائیلی جرائم پیشہ نیٹ ورک یورپ بھر میں چینی تارکین وطن کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ کا ایک ایسا بے ضابطہ طریقہ استعمال کر رہے ہیں جسے ’فائی کیان‘ کا نام دیا جاتا ہے یعنی ’اڑتی ہوئی رقم‘ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مغربی خفیہ دستاویزات کے مطابق یہ تارکین وطن فرانس، اٹلی اسپین، بیلجیم اور جرمنی میں مقیم ایسے چینی افراد کو رقم دیتے ہیں جو قابل بھروسہ ہوتے ہیں۔ یہ چینی افراد جنہیں ’بیگ مین‘ کا نام دیا جاتا ہے، اسرائیلی جرائم پیشہ افراد کو چین کے اکاؤنٹ نمبر دیتے ہیں جہاں وہ اپنی چوری شدہ رقم کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔ جب اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ رقم درست اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی ہے تو یہ ’بیگ مین‘ اپنے پاس موجود کیش ان جرائم پیشہ افراد کے حوالے کر دیتا ہے۔

چین میں کئی ایک ایسے طریقے دستیاب ہیں جن کے ذریعے کالے دھن کو سفید کیا جاتا ہے

چین میں کئی ایک ایسے طریقے دستیاب ہیں جن کے ذریعے کالے دھن کو سفید کیا جاتا ہے

- رواں برس فروری میں اسپین نے چین کے سب سے بڑے بینک ’انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا‘ کے چھ ایگزیکٹیوز کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ایسے چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس کی مدد کر رہے تھے جو اسپین اور چین سے تعلق رکھتے تھے اور یورپ کے جرائم پیشہ گروپوں کو خدمات فراہم کر رہے تھے۔ یورپی پولیس ’یورو پول‘ کے مطابق وہ بھی ان نیٹ ورکس کے فرانس، جرمنی اور لیتھوانیا سے روابط کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ چینی حکام کے مطابق بینک ہر طرح کی تحقیقات میں تعاون کرے گا اور انہیں یقین ہے کہ یہ بینک کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں تھا۔

- چینی صوبے گوانگ ژو میں مقیم کولمبیا کے تین افراد نے میکسیکو اور کولمبیا سے تعلق رکھنے والے منشیات کا کاروبار کرنے والے گروپوں کے پانچ بلین ڈالرز منتقل کیے تھے۔ امریکا کے محکمہ انصاف کی طرف سے گزشتہ برس ستمبر میں پتہ چلایا گیا کہ اس مقصد کے لیے رقوم ہانک کانگ اور چین میں قائم بینکوں میں منتقل کی گئیں۔ ان بینکوں سے یہ رقوم اکثر کیش کی صورت میں نکلوائی گئیں اور ان سے چین میں اشیاء خرید کر انہیں کولمبیا اور دیگر مارکیٹوں میں لے جا کر فروخت کیا گیا۔

- گزشتہ برس جون میں فرانس کے مالیاتی جرائم کے انسداد کے اسکواڈ نے جس کے ساتھ نوٹ سونگھنے والے کُتے بھی تھے، پیرس کے شمال میں واقع ایک چینی ہول سیل مرکز پر چھاپہ مارا تھا۔ چینی تاجروں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ جنوبی افریقہ کے منشیات فروشوں کی رقوم منتقل کر رہے تھے۔