1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین مذاکرا ت میں سنجیدہ نہیں: دلائی لاما

چین کی کمیونسٹ حکومت نے تبّتی بدھوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ کیا اس فیصلے کو بیجنگ حکومت کے مسئلہ تبّت پر نسبتاً دفاعی ردِ عمل سے تعبیر کیا جانا چاہیے؟

default

جلا وطن تبتی روحانی راہنما دلائی لامہ

چاہے چینی حکومت کچھ بھی کہے، حقیقت شاید یہی ہے کہ تبّت کے مسئلے اور اس مسئلے کو حوالہ بنا کر جس طرح ساری دنیا، اور بالخصوص مغرب میں شور مچا ہے، اور جس طرح رواں سال بیجنگ میں منعقد ہونے والے اولمپکس مقابلوں کے بائکاٹ کے مطالبات سامنے آئے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ چینی حکومت کے لیے دلائی لاما سے صرفِ نظر کرنا خاصا مشکل ہو گیا ہے۔

چند روز میں چینی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار دلائی لاما کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کو ممکن بنانے میں چند مغربی ممالک کا اثر و رسوخ کار فرما ہے۔اس کے باوجود دونوں فریقین ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ چینی زرائع ابلاغ کے مطابق دلائی لاما نے پانچ دہائیاں جلا وطنی میں گزارنے کے بعد بالآخر انسانی حقوق کا نعرہ بلند کر کے مغربی ممالک کو رجھانے کا فن سیکھ لیا ہے۔چین کا سرکاری میڈیا یہ بھی کہہ رہا ہے کہ دلائی لاما تبّت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں کیوں خاموش ہیں؟

دوسری جانب دلائی لاما کا موقف ہے کہ چینی حکومت کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک با معنی نہیں ہوں گے جب تک چین سنجیدگی کے ساتھ تبّت کے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت نہیں کرتا۔

دلائی لاما کے حامیوں کا الزام ہے کہ تبّت میں ہونے والے مظاہروں کے بعد چینی حکومت نے تبّت میں گرفتاریوں ، تشدّد اور ناکہ بندیوں کا سلسلہ تیز تر کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی چین پر تبّت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نکتہ چینی کی ہے۔

مبصرین کی رائے میں چینی حکومت کی دلائی لاما کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش نئی نہیں ہے۔ جو بات نئی ہے وہ چین پر بڑھتا ہوا شدید بین الاقوامی دباﺅ ہے جو حال ہی میں تبّت میں ہونے والے پر تشدّد مظاہروں او ر مبینہ طور پر چینی حکومت کے طرزِ عمل کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کا نتیجہ ہے۔

چین کے حامی بہر حال یہی کہیں گے کہ چین کے ساتھ یہ ناروا سلوک چین کی غیر معمولی معاشی ترقّی کو روکنے کی مغربی ممالک کی ایک سازش ہے، اور یہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیا صرف تبّت میں ہی ہو رہی ہیں؟