1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین مالیاتی مسائل میں گھرے یورپ کی مدد کو تیار

چین نے مالی مشکلات میں گھری یورپی ریاستوں کو سہارا فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔ بیجنگ حکومت چاہتی ہےکہ اپنے بیش بہا زرمبادلہ سے یورپ میں سرمایہ کی جائے۔

default

چینی دفتر خارجہ کے ترجمان ژیانگ یوکا کہنا ہے کہ ان کا ملک یورو زون کے رکن ممالک کی اقتصادی بحالی ممکن بنانے کے لئے مدد کرنے کو تیار ہے۔ یوکے بقول مستقبل قریب میں یورپ، چینی زرمبادلہ کی سرمایہ کاری کے حوالے سے دنیا کی بڑی منڈیوں میں سے ایک ہوگا۔ یورپی ممالک کو لاحق مالیاتی بحران کا تعلق چین سے بھی ہے۔

بیجنگ حکومت کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر ہیں،جو اندازاً 2.648 ٹریلین ڈالر ہیں۔ رواں ہفتے دوطرفہ تجارتی مذاکرات میں چین نے یورپ پر زور دیا تھا کہ وہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے عملی اقدامات کرے۔ چینی وزیر تجارت چن ڈی منگ کا کہنا تھا کہ چین اس تشویش میں مبتلا ہےکہ کیا یورپی ممالک اس بحران پر قابو پاسکیں گے؟

چینی حکومت نے اکتوبر میں یونان کو درپیش مالی بحران کے دوران ایتھنزکے حکومتی بانڈ خریدنے کی پیشکش کی تھی۔ گزشتہ ماہ چینی صدر ہو جن تاؤ اپنے دورہ ء لزبن میں پرتگال کو بھی بحران سے نمٹنے میں تعاون کی پیشکش کرچکے ہیں۔ بیجنگ حکومت نے فی الحال باضابطہ طور پر پرتگال کے بانڈ خریدنے میں ابھی کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔

Streik in Griechenland

ایتھنز میں منعقدہ ایک مظاہرے کا منظر

پرتگالی اخبار Jornal de Negociosنے حکومتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ چینی حکومت 5 ارب ڈالر مالیت کے حکومتی بانڈ خریدنے کو تیار ہے۔

پرتگال کی حالت بھی یونان، آئرلینڈ اور سپین جیسی ہے۔ ان ممالک کو بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کی وجہ سے سنگین مالی مسائل کا سامنا ہے۔ مالیاتی امورکے ماہرین اٹلی اور بیلجیئم کو بھی اگلے سال اسی قطار میں کھڑا دیکھتے ہیں۔ پرتگالی وزیر خزانہ فرنانڈو تھائیشائیرو بیجنگ جاکر اپنے ملک کو درپیش مالی مشکلات کے موضوع پر چینی حکام سے ملاقاتیں بھی کرچکے ہیں۔

دوسری جانب، یورو زون میں سب سے پہلے بیل آؤٹ پیکج قبول کرنے والی ریاست یونان نے حکومتی اخراجات میں 14 ارب یورو کی کٹوتی کا بجٹ منظور کرلیا ہے۔ ملک بھر میں مزدور اتحاد اور کمیونسٹ تنظیمیں نوکریوں کے خاتمے اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM