1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین عرب دنیا سے تجارتی روابط بڑھانے کا خواہاں

عالمی سطح پر ان دنوں امریکی اور یورپی معیشتیں مشکلات میں گھری ہیں۔ اس کے برعکس چین اب شاہراہ ریشم کے تاریخی پس منظر میں عرب ریاستوں سے اپنے تجارتی روابط مضبوط تر کرنے کی کوشش میں ہے۔

default

اس سلسلے میں چین کی اقلیتی مسلمان آبادی والے ایک علاقے نینگشیا میں ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ شاہراہ ریشم پر واقع اس شمالی علاقے میں منعقدہ اجلاس میں خلیجی ممالک  کی سیاسی قیادت اور عرب دنیا سے حکمراں خاندانوں کے ارکان نے شرکت کی۔ چین کے صنعتی اور تجارتی حلقوں سے منسلک شخصیات نے ان کی میزبانی کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اجلاس کے شرکاء پر امید ہیں کہ عرب دنیا میں تبدیلی کی لہر سے اقتصادی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ ایسے میں تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے بیجنگ کی جانب دیکھا جا رہا ہے۔

اس اجلاس کا آغاز بدھ کو ہوا اور اتوار اس کا آخری دن ہے۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران اعلیٰ چینی عہدیدار جیا کِنجی لِن کا کہنا تھا کہ عرب دنیا کے ساتھ چین کی تجارت 30 فیصد سالانہ کی اوسط سے نمو پا رہی ہے۔ کِنجی لِن چین کے ایک آئینی مشاورتی ادارے کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں چین اور عرب دنیا کے مابین دو طرفہ تجارتی حجم 65 ارب ڈالر سے بڑھ کر 145 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

Aussenministertreffen der Arabischen Liga

اجلاس کے منتظمین کے مطابق عرب لیگ میں شامل تمام 22 ارکان نے اپنے نمائندے اس اجلاس میں بھیجے

اس اہم اجلاس کے لیے نینگشیا جیسے قدرے دور افتادہ علاقے کے انتخاب کو اس وجہ سے اہمیت دی جا رہی ہے کہ یہاں ہوئی نسل کے بہت سے مسلمان بستے ہیں۔ اجلاس کے منتظمین کے مطابق عرب لیگ میں شامل تمام 22 ارکان نے اپنے نمائندے اس اجلاس میں بھیجے۔ اسی طرح غیر عرب ممالک بالخصوص افریقی ممالک کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ معیشت کے پہییے کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی چینی ضروریات اس اجلاس کا مرکزی نکتہ تھیں، مگر بعد میں دو طرفہ سطح پر مالیاتی خدمات، ٹیکسٹائل، صنعتی مشینری، جہاز سازی اور ہوا بازی کے محکموں سے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ 

اجلاس میں شریک بحرین کے معاشی ترقی سے متعلق ادارے کے سربراہ محمد بن عیسیٰ الخلیفہ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر معاشی سرگرمیوں کا محور اب مشرق کی جانب مُڑ رہا ہے۔ ایک مصری تاجر امر ال اداوی کا کہنا تھا کہ مصر میں حسنی مبارک کے دور کی تین دہائیوں میں نہ ہونے کے برابر ترقی ہوئی اور اب اس کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ کویت میں تیل و گیس کے شعبے سے وابستہ ایک تاجر خالد الروز کے بقول، ’’ یورپیوں کی عزت سر آنکھوں پر مگر ان کے ساتھ تجارت کرنے میں تاخیر اور تجارت کے پیمانے سے متعلق مشکلات رہتی ہیں۔‘‘

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM