1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین: دودھ کا اسکینڈل

چين ميں دودھ ميں جس میں ملامين نامی مادے کی ملاوٹ کی گئی اس کی ملاوٹ سے سے ايسا معلوم ہوتا تھا کہ دودھ ميں پروٹين کی مقدار بہت زيادہ ہے ۔ يہ ملاوٹ بہت خطرناک ثابت ہوئ اور کئ شير خوار بچے مرگئے جبکہ لاکھوں بيمار ہو گئے۔

default

چین کی عاومی عدالت کے باہر ایک پولیس اہلکار حفاظتی ذمہ داری پر مامور

دودھ ميں ملاوٹ ميں ملوث افراد کے خلاف جو مقدمہ چل رہا تھا، اس ميں اب عدالت نے دو ملزموں کو موت کی سزا دی ہے۔ ان ميں سے ايک جانگ يويون ہيں جنہيں ملامين ملا دودھ تيار اور فروخت کرکے عوامی سلامتی کو خطرے ميں ڈالنے پر سزائے موت سنائی گئی۔ دوسرے ملزم جينگ جی پنگ کو زہرآلود غذا تيار اور فروخت کرنے کا مجرم پايا گيا۔

China Milchskandal Eine Frau prüft in einem Supermarkt Milchprodukte

چین میں ہفتوں اس اسکینڈل کو دبائے رکھا گیا

شيجيائے ہوانگ عوامی عدالت نے دودھ اور دودھ سے بنی اشياء تيار کرنے والی فرم سان لوگروپ کی سابق چيف مينيجر تيان وين ہو کو عمر قيد کی سزا سنائی ۔ ان کو خراب اور گھٹيا معيار کی اشياء تيار کرنے اور بيچنے کے جرم پر سزا دی گئی۔

سان لو فرم پر، جو اس دوران ديوالیے کا اعلان کر چکی ہے، پچاس ملين ين يا سات ملين ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کيا گيا ہے۔ اعتراف جرم کرنے والے تيان پر بيس ملين ين کا جرمانہ بھی عائد کيا گيا ہے۔

Milchskandal in China

چین میں لاکھوں بچے کیمیکل کی ملاوٹ والے دودھ سے متاثر ہوئے

چين ميں ملامين کيميکل کی ملاوٹ والے دودھ کی دو درجن سے زائد مصنوعات پکڑی گئيں تھيں جن سے يہ ظاہر ہوا کہ اس مادے کو بڑے پيمانے پر ملاوٹ کے لئے استعمال کيا جارہا تھا۔ ملامين کی سب سے زيادہ مقدار سان لوفرم کے مقبول عام اورسستے، بچوں کے دودھ ميں پائی گئی تھی۔

دودھ ميں ملاوٹ کے اسکينڈل کے ملزمان کی تعداد 21 ہے۔ ان ميں سے مزيد دو کو موت کی سزائيں سنائی گئی ہيں۔ نو ملزمان کا فيصلہ دوسری عدالتوں کے سپرد کيا جائے گا۔

سزائے موت کے ايک فيصلے کو دو برسوں کے لئے ملتوی کر ديا گيا اور اسے بعد ميں عمر قيد کی سزا ميں تبديل کيا جاسکتا ہے۔ انتاليس ملزمان ابھی عدالت ميں پيشی کے منتظر ہيں۔

Milchskandal in China

چینی حکام مارکیٹ مین دستیاب دودھ کا معائنہ کرتے ہوئے

دودھ کے ا سکينڈل کو اولمپک کھيلوں کی وجہ سے کئی ماہ تک چھپائے رکھا گيا۔ اس کا انکشاف ستمبر ميں کيا گيا جب ہسپتال ملاوٹ شدہ دودھ کے مريضوں سے بھر چکے تھے۔

مرنے والے پانچ ماہ کے ایک بچے کے والدين کو سان لو فرم کی طرف سے دو لاکھھ ين کا معاوضہ ادا کيا گيا۔

بہت سے والدين نے معاوضے کی رقم کو بالکل ناکافی قرار ديا ہے خصو صا اس لئے کيونکہ علاج کے اخراجات بہت زيادہ ہيں۔ سينکڑوں بچے اب بھی ہسپتال ميں ہيں۔ متاثرين کا يہ بھی کہنا ہے کہ اموات کی تعداد کوکم دکھايا جارہا ہے۔ انہوں نے سالوکی سابق چيف مينيجر کے لئے بھی سزائے موت کا مطالبہ کيا۔