1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین خطے میں انسداد دہشت گردی کے میکانزم کی تیاری میں مصروف

کابل متعین چینی سفیر یاؤ جینگ نے کہا ہے که بیجنگ حکومت افغانستان، پاکستان اور تاجکستان کے ساته مل کر انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار کی تیاری میں مصروف ہے۔

چینی سفیر یاؤ جینگ نے یه بات ان تینوں ممالک کی مشترکه سرحد کے قریب واقع شمال مشرقی افغان صوبے بدخشان کے دورے کے موقع پر کہی، جہاں حالیه دنوں میں طالبان اور داعش کے حامی عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافه دیکها جا رہا ہے۔ افغانستان کے صوبه بدخشان کی سرحدیں پاکستان کے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے ساته چین کے سنکیانگ اور تاجکستان کے گورنو بدخشان نامی خطوں سے ملتی ہیں۔

چینی سفیر نے واضح کیا که یہاں بڑهتی ہوئی دہشت گردانه کارروائیان نه صرف چین اور افغانستان بلکه تمام خطرے کے لیے تشویش کا باعث بن رهی ہیں، " گزشته ماه تاجکستان منعقده اجلاس میں مختلف طریقہ کار پر بات هوئی۔ ہم کئی طرز کے عسکری تعاون پر غور کر رہے  ہیں جیسا که مشترکه مشقیں، سرحدوں پر مشترکه گشت اور شاید مستقبل میں مشترکه آپریشنز بهی اس میں شامل ہوں"۔ یاو جینگ نے افغانستان میں چینی سرمایه کاری میں اضافے کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہا که بیجنگ حکومت یہاں کئی منصوبوں میں سرمایه  کاری کر رہی ہے۔

انہوں نے بدخشان میں فائبر آپٹک کیبل بچهانے کے منصوبے کا بهی ذکر کیا، "چینی حکومت شاہراه ریشم اقتصادی تعاون کے منصوبے پر کام کر رہی ہے  جوکه حقیقت میں تو شاہراه نہیں  بلکه خطے کے ممالک کے مابین اقتصادی رابطے بڑهانے اور مشترکه ترقی کا ایک نظریه ہے اور افغانستان چین کا ایک قریبی ہمسایه ہے"۔

حالیه برسوں میں افغانستان کے کئی ایسے شمالی صوبے بدامنی کے لپیٹ میں آئے ہیں، جو گزشته کئی برسوں تک خاصے پر امن تھے۔ بدخشان صوبه ان میں سے ایک ہے۔ دیگر شمالی صوبوں جیسا که جوزجان، قندوز اور فاریاب میں بڑهتی بدامنی کی وجه سے وسطی ایشیائی ممالک ازبکستان، ترکمانستان اور روس نے بهی اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

جنوب مشرقی ايشيائی ممالک بيرونی مداخلت کو رد کريں، چين

پاکستانی قربانیوں کا احترام کیا جائے، چین

چین اور بھارت تعلقات بہتر بنانے کے لیے متفق

مبصرین کے بقول ان افغان علاقوں ایک بہت بڑی تعداد داعش کے حامی چیچین، وسط ایشائی، پاکستانی، عرب اور خود افغان عسکریت پسند فعال ہیں، جو طالبان سے بهی زیاده سفاک تصور کیے جاتے ہیں۔ تجزیه نگار بریگیڈیئر محمد عارف کے بقول چینی حکومت نے کافی عرصے تک افغان تنازعے کے سیاسی اور جنگی پہلو سے خود کو دور رکها مگر اب بیجنگ ایک نمایاں اور فعال کردار نبهانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

"سال 2014 میں غیر ملکی افواج کی ایک بہت بڑی تعداد کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد خطے کے لگ بهگ تمام ممالک جیساکه پاکستان، ایران، روس، وسط ایشیائی ممالک اور بهارت افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑهانے کی جانب مائل ہوئے جبکه حقیقت میں چین اس خطے کی ایک بہت بڑی طاقت ہے  تو اس کا چین کا غیر جانبدار رہنا زیاده منطقی نہیں رہا"۔

 

گزشته ہفتے افغان صدر محمد اشرف نے اعلان کیا که وه پاکستان کے ساته منقطع سیاسی رابطے دوباره بحال کرنے کو تیار ہیں، جس کی مدد سے تنازعات کو حل کیا جاسکے گا۔ یاد رہے  که چین اس چار فریقی رابطه گروپ کا رکن ہے، جس کی مدد سے خطے کے ممالک افغان تنازعے کے پر امن حل کی تلاش کر رہے  ہیں۔

بیجنگ حکومت نے افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان میں اقتصادی راہداری کے China Pakistan Economic Corridor  منصوبے میں پچاس ارب ڈالر سے زائد کی سرمایه کاری کر رکهی ہے، جس کے تحت اس کا سنکیانگ صوبه سڑکوں کے ایک جال کی مدد سے پاکستان کی گوادر بندرگاه کے ساته جڑ جائے گا، جس پر دیگر کئی تجارتی و صنعتی منصوبے، بجلی گهر اور صنعتی پارکس بهی تعمیر کیے جائیں گے۔ گرچه افغانستان اس منصوبے کا حصه نہیں تاہم  عالمی بینک کے تعاون سے کابل حکومت نے اپنے ملک میں سڑکوں اور راہداریوں کا ایک جال بچهانے کا منصوبه بنا رکها ہے، جس کی مدد سے چین اور جنوبی ایشیائی مملک کو ایران، وسطی ایشیا اور یورپ کے ساته تجارت کرنے کے مواقع فراہم کیے جاسکیں گے۔

ویڈیو دیکھیے 01:30

جدید دور کی شاہراہ ریشم

DW.COM

Audios and videos on the topic