1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین جانے کی اجازت نہ ملنے پر ’مس ورلڈ‘ کی برہمی

چینی نژاد بیوٹی کوئین اناستاسیا لِن نے، جنہیں اس سال مئی میں مِس ورلڈ کینیڈا کا تاج پہنایا گیا تھا، اپنی انسانی حقوق کی سرگرمیوں کے باعث چین جانے کی اجازت نہ ملنے پر بیجنگ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Miss World Schönheitswettbewerb Kanada China Einreise

چینی نژاد مس ورلڈ کینیڈا اناستاسیا لن

پچیس سالہ لِن چین میں منعقد ہونے والے 65 ویں مقابلہٴ حسن ’مس ورلڈ‘ میں شرکت کے لیے چین جانا چاہتی تھیں لیکن اُنہیں ہانگ کانگ سے چین جانے والی پرواز پر بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ ہانگ کانگ کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے لِن نے کہا کہ وہ سمندر کنارے واقع تفریحی مقام سانیا میں مس ورلڈ کے ایک مقابلے میں شریک ہونا چاہتی تھیں لیکن یہ کہ اُنہیں وہاں جانے سے روک دیا گیا۔

جمعہ ستائیس نومبر کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لِن نے کہا:’’میرے خیال میں چینی حکومت مجھ سے اس لیے ناراض ہے کیونکہ میری سرگرمیاں ان (انسانی حقوق کے) معاملات کی طرف (دنیا کی) توجہ دلاتی ہیں۔ میں جانتی تھی کہ اس میں ایک بڑا خطرہ تھا اور مجھے روکا جا سکتا ہے لیکن میں حوصلہ نہیں کھونا چاہتی تھی، مَیں اپنے تمام تر امکانات بروئے کار لانے تک ہمت نہیں ہارنا چاہتی تھی۔‘‘ لِن نے کہا کہ اگرچہ وہ مس ورلڈ کے مقابلے میں شرکت کے لیے سانیا تک کا سفر نہیں کر سکی ہیں لیکن وہ ابھی بھی اس مقابلے میں امیدوار کے طور پر شریک ہیں۔ واضح رہے کہ لِن کے والد چین ہی میں رہتے ہیں۔

Miss World Schönheitswettbewerb China

23 نومبر 2015ء: سانیا کے مقام پر 65 ویں مس ورلڈ کے مقابلے کے ایک ابتدائی راؤنڈ میں شریک خواتین، مقابلے کا فائنل اسی شہر میں اُنیس دسمبر کو منعقد ہو گا

اناستاسیا لِن نے ایسی متعدد فلموں میں اداکاری کی ہے، جن میں چین میں بدعنوانی سے لے کر مذہب کو دبائے جانے تک مختلف حساس معاملات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میڈیا کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ چین آخر ایک ملکہٴ حسن کے بارے میں اتنا فکر مند کیوں ہے:’’اُن سے پوچھیں کہ آیا وہ کسی اولمپک ایتھلیٹ کو بھی ونٹر اولمپک گیمز میں شرکت سے روکیں گے، صرف اس لیے کہ اُس کے خیالات ایسے ہیں، جن سے کمیونسٹ پارٹی اتفاق نہیں کرتی؟‘‘

اس سال جولائی میں بیجنگ کو 2022ء میں سرمائی اولمپک کھیل منعقد کرنے کا حقدار قرار دے دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بیجنگ ہی میں 2008ء میں گرمائی اولمپک کھیل بھی منعقد ہو چکے ہیں اور اس طرح دنیا بھر میں یہ واحد شہر ہو گا، جسے دونوں طرح کی اولمپک گیمز کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہو گا۔

DW.COM