1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین تقریباﹰ دس ارب مالیت کے 130 ایئربس طیارے خریدے گا

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے دورہ چین کے دوران بیجنگ حکومت نے طیارہ ساز یورپی کمپنی ایئربس سے ایک سو تیس ہوائی جہاز خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ یورپی ممالک دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے ساتھ تیزی سے روابط بڑھا رہے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل چین کا ایک ایسے وقت میں دورہ کر رہی ہیں، جب چینی صدر شی جن پنگ نے رواں ماہ کے آغاز میں برطانیہ کا دورہ کیا اور آئندہ ہفتے فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ اس ملک کا دورہ کرنے والے ہیں۔ چین یورپی یونین کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہے جبکہ یورپی یونین کے بڑے ممالک، جن میں جرمنی، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں، اس ملک کے ساتھ مزید تجارتی روابط بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

یہ بڑھتے ہوئے تجارتی روابط یورپ اور ان کے روایتی حلیف امریکا کے مابین بھی تعجب کا باعث بنے ہیں کیوں کہ امریکا چین کو اپنا سب سے بڑا جیو پولیٹیکل حریف سمجھتا ہے۔ حال ہی میں یورپ نے امریکا کی مخالفت کے باوجود چین کے ’ایشیائی انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک‘ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔

China Bundekanzlerin Merkel in Peking

جرمن چانسلر انگیلا میرکل ایک ایسے وقت میں چین کا دورہ کر رہی ہیں، جب چین کے دیگر یورپی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے

طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے ایک ترجمان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایئربس اور چین کے سرکاری ایوی ایشن ہولڈنگ گروپ کے مابین A320 ماڈل کے ایک سو طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس ترجمان کے مطابق ان طیاروں کی مالیت 9.7 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ چین اس طیارہ ساز کمپنی سے تیس A330s طیارے بھی خریدے گا۔

ایئربس نے شمالی چینی تیانجن بندرگاہ میں ایک اسمبلنگ پلانٹ بھی لگا رکھا ہے اور اسے چین جیسی اہم مارکیٹ میں غلبے کے لیے امریکی بوئنگ کا سخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چین سن 2034ء تک اپنے کمرشل بیڑے میں چھ ہزار تین سو تیس نئے ہوائی جہاز شامل کرنا چاہتا ہے اور ان کی مجموعی مالیت 950 ارب ڈالر بنتی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل ایک ایسے وقت میں چین کا دورہ کر رہی ہیں، جب چین کے دیگر یورپی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی مناسبت سے جرمن چانسلر کا چین میں کہنا تھا، ’’ میں شی کے دورہ برطانیہ کی کامیابیوں کا جان خوش ہوں۔ ہم ایسے مقابلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاروبار کو فروغ ملے۔‘‘