1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین ایک بڑھتا ہوا دفاعی خطرہ،آسٹریلوی سروے کے نتائج

آسڑیلیا میں تقریبا نصف رائے دہندگان کا خیال ہے کہ چین اگلےبیس برسوں میں ایک بڑا فوجی خطرہ بن جائے گا۔ آسٹریلوی شہریوں کی اکثریت کی رائے میں کینبرہ حکومت چین کو اپنے ہاں انتہائی حدتک زیادہ سرمایہ کاری کی اجازت دے رہی ہے۔

default

آسٹریلیا میں خارجہ پالیسی کے Lowy انسٹیٹیوٹ کی طرف سے کرائے جانے والے اس سروے کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہزار سے زائد شہریوں کی تفصیلی رائے دریافت کی گئی۔ سڈنی سے مو صولہ رپورٹوں کے مطابق اس سروے کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ 44 فیصد آسٹریلوی شہریوں کی رائے میں چین ایک بڑھتا ہوا دفاعی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ رائے دہندگان میں سے 8.7 فیصد نے اس سوچ کا اظہار کیا کہ چین کے ساتھ آسٹریلیا کے کسی بھی ممکنہ تنازعے کی وجہ یہ ہو گی کہ آسٹریلیا امریکہ کا ایک بڑا اتحادی ملک ہے۔

آسٹریلوی خاتون وزیر اعظم جولیا گیلارڈ کے چین کے اولین دورے کی مناسبت سے کرائے گئے اس جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 75 فیصد ووٹروں کی رائے میں چین کی اقتصادی ترقی آسٹریلیا کے لیے اچھی ہے تاہم 57 فیصد جواب دہندگان نے اس رائے کا اظہار بھی کیا کہ آسٹریلیا میں چینی سرمایہ کاری انتہائی حد تک زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس عوامی سروے کے دوران 58فیصد رائے دہندگان نے یہ بھی کہا کہ کینبرہ حکومت بیجنگ کو انسانی حقوق کے احترام کے سلسلے میں دباؤ میں لانے کے لیے کافی اور موثر اقدامات نہیں کر رہی۔

ایک سال سے پہلے کرائے گئے اس طرح کے ایک جائزے میں انسانی حقوق کے حوالے سے میں آسٹریلیا کی طرف سے چین پر ناکافی دباؤ کی شکایت کرنے والے شہریوں کا تناسب 66 فیصد تھا۔ اس سروے کے دوران ایسے آسٹریلوی شہریوں کی تعداد بھی کم ہو گئی جو یہ سوچتے ہیں کہ چین کے اثرورسوخ کو کم کرنے کے لیے آسٹریلیا کو دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر کوششیں کرنی چاہیئں۔ ایک سال پہلے اس طرح کی سوچ کا اظہار کرنے والے آسٹریلوی باشندوں کی تعداد 55 فیصد تھی جو تازہ ترین جائزے میں کم ہو کر 50 فیصد رہ گئی۔

China Australien Julia Gillard Wen Jiabao Peking

اس سروے میں نصف سے تھوڑے زیادہ رائے دہندگان نے اس رائے کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں اگر کبھی شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر کوئی فوجی حملہ کیا تو آسٹریلیا کو جنوبی کوریا کی مدد کے لیے شامل ہونا چاہیے۔ چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ملک ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر جنوبی کوریا کے ساتھ تنازعے میں شمالی کوریا کی مدد کے لیے چین نے کوئی فوجی مداخلت کی تو آسٹریلیا کو کیا کرنا چاہیے، 56 فیصد آسٹریلیوی باشندے اس حق میں تھے کہ ایسی صورت میں آسٹریلیا کو جنوبی کوریا کی مدد کے لیے وہاں اپنے فوجی بھیجنے چاہیئں۔

آسٹریلیوی وزیر اعظم گیلارڈ نے اپنے دورہ چین کا آغاز پیر کو رات گئے کیا۔ بطور وزیر اعظم اپنے پہلے دورہء چین سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ چینی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی میں کمی کے لیے شمالی کوریا پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

آسٹریلیا کےLowyانسٹیٹیوٹ برائے خارجہ پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل ویسلے کے مطابق آسٹریلیا میں چین کے ساتھ تعلقات سے متعلق اس سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ کینبرہ اور بیجنگ کے تعلقات کتنے اہم لیکن پیچیدہ ہیں۔ آسٹریلیا کے چین کے ساتھ تجارتی روابط کا سالانہ حجم 50.6 بلین ڈالر بنتا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس