1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین اپنے انتہائی گہرے دوست پاکستان کے پیچھے کھڑا ہے، چین

چین اور پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی سے قطع نظر طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ گزشتہ 16 برس سے جاری اس تنازعے کے حل کی راہ نکالی جا سکے۔

پاکستان کے نئے وزیر خارجہ خواجہ آصف اپنے اولین غیر ملکی دورے پر چینی دارالحکومت بیجنگ پہنچے ہیں۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ چین اپنے انتہائی قریبی دوست پاکستان کے پیچھے مضبوطی سے کھڑا ہے، چاہے ’’کچھ ممالک‘‘ اسلام آباد کو دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ پر وہ کریڈٹ نہیں دیتے جس کا وہ حق دار ہے۔ یہ دراصل امریکا کی طرف اشارہ تھا۔

پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ہم منصب اور میزبان وانگ ژی نے کہا کہ امریکا کی طرف سے افغانستان میں ہزاروں مزید فوجی تعینات کرنے کے فیصلے کے باوجود چین، پاکستان اور افغانستان رواں برس اعلیٰ سطحی مذاکرات کریں گے تاکہ بذریعہ مذاکرات افغان مسئلے کے حل کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسلام آباد دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ امریکا پاکستان کی امداد بند کر دے گا۔

پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کرنے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور الزام عائد کرتا ہے کہ امریکا پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزارہا انسانوں جانوں کی قربانی اور کئی بلین ڈالرز کے نقصانات اٹھانے کو نظر انداز کر رہا ہے۔

اسی حوالے سے وانگ ژی کا کہنا تھا، ’’پاکستان کی حکومت اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور یہ کوششیں اور قربانیاں ہر ایک پر واضح ہیں۔‘‘ وانگ ژی کا مزید کہنا تھا، ’’بین الاقوامی برادری کو اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے۔۔۔ اور پاکستان کو اس کا مکمل کریڈٹ دینا چاہیے جس کا وہ حقدار ہے۔‘‘

USA Washington - Donald Trump im Oval Office (Getty Images/AFP/N. Kamm)

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسلام آباد دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے

پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کا یہ پختہ خیال ہے کہ علاقائی استحکام کو برقرار رکھنا انتہائی اہم فوقیت ہے اور یہ کہ توجہ پُر امن حل پر رہنی چاہیے۔ انہوں نے بیجنگ حکومت کا سہ فریقی افغانستان، پاکستان اور چینی وزرائے خارجہ کا فورم منعقد کرنے کے منصوبے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ یہ فورم رواں برس کے اختتام سے قبل ہی منعقد کیے جانے کی توقع ہے۔