1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین اور فرانس میں کئی ارب ڈالر کے سمجھوتے

چین کے صدر ہوجن تاؤ کا تین روزہ فرانسیسی دورہ یقینی طور پر فرانس کے کاروباری حلقوں کے لئے نعمت سے کم نہیں رہا۔ مختلف سیکٹرز میں دونوں ملکوں کے صدور کی موجودگی میں کئی اہم معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔

default

چینی اور فرانسیسی صدور پیرس میں

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی دعوت پر چینی صدر ہوجن تاؤ فرانس پہنچے تو پیرس کےOrly ہوائی اڈے پر پورے فوجی پروٹوکول کے ساتھ سارکوزی اور ان کی اہلیہ کارلا برونی نےان کا استقبال کیا۔ فرانس کے بعد چینی صدر ہفتہ کو ایک روزہ دورہ پر پرتگال بھی جائیں گے۔ یورپی ملک پرتگال کے صدر اینی بال کاواکُو سلوا (Anibal Cavaco Silva) نے چینی صدر کو اس دورے کے لئے خصوصی دعوت دی ہے۔

فرانس کے دورے کے دوران ہوجن تاؤ نے فرانسیسی وزیر اعظم فرانسوآ فِیوں کے علاوہ کئی دوسرے اعلٰی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ چینی صدر آج

Hu Jintao in Paris

چینی اور فرانسیسی صدور بات چیت کے دوران

بحیرہ روم کے کنارے پر واقع سیاحتی مقام نیس (Nice) جائیں گے، جہاں فرانسیسی صدر کے ساتھ ان کی ملاقات میں بین الاقوامی خارجہ امورکو اہمیت حاصل رہے گی۔

اس دورے کے دوران چینی صدر نے ابھرتی اور ترقی یافتہ ملکوں کی تنظیم جی ٹونٹی کی سربراہی کے لئے فرانس کی حمایت کا اعلان بھی کیا، جو میزبان ملک کے لئے ایک بڑی سفارتی کامیابی خیال کی گئی ہے۔ گروپ ٹونٹی کا سربراہی اجلاس اگلے ہفتے کے دوران جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس گیارہ اور بارہ نومبر کو ہوگا۔

فرانس کے تین روزہ دورے کے پہلے دن چینی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا ملک فرانس کے ساتھ اگلے پانچ سالوں کے دوران تجارتی حجم کو دوگنا کرتے ہوئے اسے 80 ارب ڈالر تک پہنچا دے گا۔ مبصرین کے نزدیک چینی صدر کے دورے کا بنیادی مقصد یورپی ملکوں اور چین کے درمیان پائے جانے والے تجارتی تناؤ کوکم کرنا ہے۔

اس دورے کے دوران جن سمجھوتوں کو خاص طور پر اہمیت دی گئی، ان میں چین کی جانب سے ایئر بس ساختہ کے 102 طیاروں کی خرید کا معاہدہ ہے۔ چودہ ارب ڈالر کا یہ معاہدہ چین کی سب سے بڑی ہوائی کمپنی ’چائنا سدررن‘ کے لئے کیا گیا۔ اس میں ایئر بس کے مختلف ماڈل شامل ہیں۔ چین اور فرانس کے درمیان طے پانے والے چار بڑے معاہدوں کی مالیاتی وزن بیس ارب ڈالر کے مساوی بتائی گئی ہے۔ فرانس کی ایک کمپنی، چین کو اگلے دس سالوں میں گوانگ ڈونگ کے جوہری توانائی مرکز کے لئے بیس ہزار ٹن یورینیم بھی فراہم کرے گی۔

چینی صدر کی پیرس آمد پر انسانی حقوق کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے کچھ نہ کہنے پر سفارتی اور سیاسی حلقوں نے حیرانی ظاہر کی ہے۔ تنظیم Reporters Without Borders نے مقید نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ليو ژياؤبوکی رہائی کے حق میں مظاہرہ بھی کیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس