1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین اور روس بشار الاسد پر دباؤ بڑھائیں، امریکہ

شام میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن بدستور جاری ہے۔ تازہ کارروائیوں میں کم از کم سترہ ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ امریکہ نے دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ ان حالات کے خلاف آواز اٹھائیں۔

default

شام کے صدر بشار الاسد

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے چین، روس اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے صدر بشار الاسد پر دباؤ بڑھائیں تاکہ وہ اپنی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن روکیں۔

سی بی ایس کے ساتھ انٹرویو میں جمعرات کو ہلیری کلنٹن نے تجویز پیش کی کہ چین اور بھارت شام پر توانائی کے حوالے سے پابندیاں لگائیں۔ انہوں نے روس پر زور دیا کہ وہ دمشق کو ہتھیاروں کی فروخت بند کر دے۔

انہوں نے کہا: ’’اسد پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہمیں تیل و گیس کی صنعت پر پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے اور ہم یورپ کو اس سمت میں مزید اقدامات کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اس حوالے سے ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے شام کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ وہاں جمہوری اقدار کا فوری فروغ ضروری ہے۔

اُدھر شام میں احتجاجی مظاہروں میں شریک کارکنوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے لبنان کی سرحد کے ساتھ اور ملک کے سنی قبائلی علاقے میں کارروائیوں کے دوران کم از کم سترہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

US-Außenministerin Hillary Clinton in der Türkei

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

انسانی حقوق کے کارکنوں اور مظاہروں میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ ایک خاتون اور ایک بچے سمیت گیارہ افراد قصیر میں ہلاک ہوئے۔ دارالحکومت دمشق کے ایک سو پینتیس کلومیٹر شمال میں موجود اس علاقے میں فوج نے جمعرات کو کارروائی کی تھی اور اسے ٹینکوں کی معاونت حاصل تھی۔ اس شہر میں قبل ازیں بدھ کی شب بشار الاسد کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔

اس کے قریبی شہر حمص میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دمشق حکام پانچ ماہ سے جاری اس احتجاج کے دوران بیشتر غیر جانبدار صحافیوں کو ملک سے بے دخل کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے حالات و واقعات کی تصدیق مشکل بنی ہوئی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM