1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین اور تائیوان کے صدور کی تاریخی ملاقات

چینی صدر شی جِن پِنگ اور تائیوان کے صدر ما یِنگ جَو ہفتہ سات نومبر کو سنگاپور میں ملاقات کریں گے۔ یہ بات اطراف کی طرف سے آج بدھ کے روز بتائی گئی ہے۔ دونوں حریف ممالک کے سربراہان کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

دونوں ممالک کی حکومتوں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنما سنگاپور میں ہونے والی ملاقات میں باہمی معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ ملاقات جنوری میں تائیوان میں شیڈول صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سے چند ہفتے قبل ہو رہی ہے۔ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ تائیوان میں اس وقت حکومت میں موجود اور چین نواز نیشلسٹ پارٹی کُوو مِن ٹنگ (KMT) ان انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

تائیوان کے صدر ما یِنگ جَو کے عہدہ صدارت کی مدت آئندہ برس ختم ہو رہی ہے۔ 2008ء میں ما یِنگ جَو کے صدر بننے کے بعد بیجنگ اور تائیوان کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی اور چین کے ساتھ معاشی تعلقات ان کی اہم پالیسی رہی۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تنازعات تو حل نہیں ہوئے تاہم انہوں نے چین کے ساتھ تجارت اور سیاحت کے شعبوں میں تاریخی معاہدوں پر دستخط کیے۔

کمیونسٹ چین بظاہر خود سے الگ ہونے والے اس جزیرے کو واپس حاصل کرنا چاہتا ہے خواہ اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے خاص طور پر اس صورت میں جب تائیوان باقاعدہ طور پر آزادی کا اعلان کرتا ہے۔

تائیوان 1949ء میں چین میں ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں الگ ہو گیا تھا۔ سنگاپور میں ہفتہ سات نومبر کو ان دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہو گی۔ اس ملاقات کو تائیوان میں جنوری میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بیجنگ نواز جماعت کُوو مِن ٹنگ کی کامیابی کے امکانات بڑھانے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

2008ء میں ما یِنگ جَو کے صدر بننے کے بعد بیجنگ اور تائیوان کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی

2008ء میں ما یِنگ جَو کے صدر بننے کے بعد بیجنگ اور تائیوان کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی

تائیوان کی مرکزی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی (DPP) کی طرف سے صدارتی امیدوار سائی اِنگ وین نے کہا ہے کہ جس طرح چینی صدر سے ملاقات کا جو اعلان کیا گیا ہے اس نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے: ’’میرے خیال میں پورے ملک میں موجود لوگ، میری طرح بہت حیران ہوئے ہیں۔‘‘

ڈی پی پی کے ترجمان چینگ یُن پینگ کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کا وقت شکوک وشبہات پیدا کرتا ہے: ’’لوگ کیسے اس ملاقات کو ایک سیاسی آپریشن نہیں سمجھیں گے جس کا مقصد انتخابات کو متاثر کرنا ہے؟‘‘

سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ چین شاید یہ ظاہرکرنا چاہتا ہے کہ اگر تائیوان میں قوم پسندوں کی حکومت بنتی ہے تو چین اور تائیوان کے تعلقات میں بہتری کا عمل موجودہ انداز میں جاری رہے گا۔ تاہم اگر تائیوان میں دونوں صدور کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کی مخالفت کا دائرہ کار بڑھتا ہے تو یہ چیز چین نواز نیشلسٹ پارٹی کُوو مِن ٹنگ کے لیے اُلٹا نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ تائیوانی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں واضح کیا گیا کہ دونوں صدور کی اِس ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی سمجھوتے کو حتمی شکل دی جائے گی۔