1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین اور بھارت کے مابین تعاون پر اتفاق

دنیا کی دو بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں بھارت اور چین نے کہا ہے کہ دنیا اتنی بڑی ہے کہ وہ دونوں ہی اقتصادی ترقی کر سکتے ہیں۔

default

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اپنے چینی ہم منصب وین جیاباؤ کے ہمراہ

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور ان کے چینی ہم منصب وین جیاباؤ نے یہ مشترکہ بیان ویت نام میں منعقد ہوئی آسیان کی علاقائی سربراہ کانفرنس کے موقع پر اپنی جمعہ کو ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کیا۔

بھارتی اور چینی رہنماؤں کے مابین اس ملاقات کو ایشیائی سیاست کے لئے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ہنوئے میں آسیان سمٹ کے موقع پر ان رہنماؤں کی ملاقات میں کئی اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارتی وزیراعظم ڈاکٹرمن موہن سنگھ نے کہا کہ دنیا میں اتنی جگہ ہے کہ چین اور بھارت دونوں ہی ترقی کی راہوں پر گامزن رہ سکتے ہیں۔ بعد ازاں چینی وزیراعظم وین جیاباؤ نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں اتنی وسعت ہے کہ دونوں ممالک اپنی اپنی انفرادی اقتصادی ترقی کے لئے تعاون بھی کر سکتے ہیں۔

ASEAN Gipfel 2010

آسیان سمت کے دوران سفارت کار مذاکرات کرتے ہوئے

وین جیاباؤ نے کہا کہ وہ رواں برس کے اختتام تک بھارت کا دورہ کریں گے۔ اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کے چینی ہم منصب کے دورہء بھارت کے دوران دونوں ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کی خاطر بہتر رابطہ کاری کے لئے راستے ڈھونڈنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

مبصرین کے نزدیک وین جیاباؤ کا دورہء بھارت دونوں ممالک کے مابین نئے تعلقات کے آغاز کا ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں رہنما سرحدی تنازعات پر بھی مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر شیوشنکر مینن نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے وین جیاباؤ کے ساتھ اپنی مختصر ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ دونوں ہمسایہ ریاستوں کو اہم معاملات پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں۔

خیال رہے کہ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعات کے علاوہ کئی دیگر بڑے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ ان اختلافات میں ایک یہ بھی ہے کہ چین بھارتی کے زیر انتظام جموں کشمیرکو ایک متنازعہ خطہ تصورکرتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM