1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین اور بھارت کی اقتصادی دوڑ میں چابہار اور گوادر کی اہمیت

چین اور بھارت اپنی معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لئے وسائل کے حصول میں سرگرداں ہیں۔ اس جستجو کا دائرہ کار دنیا بھر میں پھیل رہا ہے جبکہ اس کوشش میں جیت کا تعلق دو بندرگاہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

default

گوادر کی بندرگاہ

چین اور بھارت کی تیز رفتار معیشت کا پہیہ گھومتا رہے، اس کے لیے انہیں وسیع تر وسائل درکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طاقتور ترین اقتصادی طاقت کا اعزاز حاصل کرنے کی دوڑ انہی دو ملکوں کے درمیان جاری ہے۔ اب اس دوڑ میں جیت کس کی ہوتی ہے، اس کا تعلق ایران اور پاکستان کی دو بندرگاہوں سے ہے۔

بھارت ایران کی جنوب مغربی بندرگاہ چابہار کے ذریعے وسطی ایشیا اور افغانستان تک رسائی حاصل کرنے کی امید کر رہا ہے۔ یہ بندرگار پاکستان کے ڈیپ سی پورٹ گوادر سے محض 72 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

گوادر کی بندرگاہ چین نے اپنی توانائی کی ضروریات کو یقینی بنانے کے لیے بنائی ہے۔ یوں بھارت چابہار اور چین گوادر کے ذریعے افریقہ، لاطینی امریکہ اور افغانستان تک سے اقتصادی معاہدے کرنا چاہتا ہے۔

اس حوالے سے آسٹریلیا کے لووی انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی سلامتی امور کے ماہر روری میڈکاف نے خبررساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا، ’ان بندرگاہوں کے ذریعے چین اور بھارت اپنے مفادات کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں، تجارت اور بیرونی مارکیٹوں تک رسائی کے مواقع کو بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

Karte Iran Chabahar Anschlag farsi

چابہار کی بندرگارہ گوادر پورٹ سے 72 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے

دوسری طرف ان دونوں بندرگاہوں کو ڈیویلپ کرنے کے حوالے سے چین اور بھارت کو پاکستان اور ایران میں علاقائی سطح پر ناہموار صورت حال کا سامنا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بھارتی حکام یہ کہتے چلے آ رہے کہ وہ چابہار کی بندرگاہ پر اضافی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ایرانی حکام پر زور دیتے رہتے ہیں تاکہ اس بندرگاہ کو تجارتی مرکز بنایا جا سکے۔

یہ بندرگارہ فعال تو ہے لیکن اس کی گنجائش پچیس لاکھ ٹن سالانہ ہے جبکہ اس کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ ٹن سالانہ کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بھارت امریکی دباؤ کے باوجود اس ایرانی بندرگار کا فروغ چاہتا ہے، جس کی وجہ چین کی جانب سے پاکستانی صوبہ بلوچستان میں بنائی گئی گوادر کی بندرگاہ ہے۔

بیجنگ حکام نے اس بندرگاہ کے لئے دو سو اڑتالیس ملین ڈالر کے ابتدائی ترقیاتی اخراجات کا اسیّ فیصد فراہم کیا۔ اس بندرگاہ کے ذریعے چین کو اپنی توانائی کی ضروریات کے لئے تیل کی سپلائی حاصل کرنے میں آسانی ہو جائے گی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس