1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین اور بھارت تعلقات بہتر بنانے کے لیے متفق

چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے متفق ہو گئے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے مودی اور شی کی ملاقات کو ’تعمیری اور مثبت‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے بھارتی سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کو اعتماد سازی میں بہتری اور سرحدی علاقوں میں قیام امن کی خاطر زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

جہادی گروپ علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، برکس

ڈوکلام سے بھارتی افواج کا انخلا شروع، چین مطمئن

بھارت کسی زعم میں نہ رہے، سرحد کا دفاع کرنا جانتے ہیں، چین

بھارتی سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ دونوں رہنما سمجھتے ہیں کہ اسی صورت میں چین اور بھارت کے مابین مضبوط اور مثبت تعلقات ممکن ہو سکیں گے۔

جے شنکر نے صحافیوں کو بتایا کہ برکس سمٹ کے موقع پر مودی اور شی کی ملاقات ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک چلی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے تعمیری گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کو احساس ہے کہ باہمی تعلقات میں بہتری بھارت اور چین کے مفادات میں بہتر ہے۔

گزشتہ ماہ ہی بھارت نے متنازعہ سرحدی علاقے ڈوکلام سے اپنی افواج کے انخلاء کا اعلان کیا تھا۔ قبل ازیں دو مہینے سے دونوں ممالک کی افواج ڈوکلام کے علاقے میں آمنے سامنے تھیں، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہو چکا تھا۔ ہمالیہ میں یہ علاقہ بھارت، چین اور بھوٹان کی سرحدوں سے ملتا ہے۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی سنہوا نے بتایا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے مودی سے کہا ہے کہ بھارت اور چین کو صحت مند اور مستحکم تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ شی نے مزید کہا کہ بیجنگ حکومت باہمی احترام کے ساتھ نئی دہلی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی خاطر تیار ہے۔

دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ بھارتی اور چینی دفاعی اور سکیورٹی اہلکاروں کو رابطہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کوئی غلطی فہمی کی گنجائش نہ رہے۔

مودی اور شی کے مابین چین کے ساحلی شہر شیامن میں ہونے والی اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ برکس سمٹ کے اعلامیے کے مطابق تمام ممالک دہشت گردی کے سدباب کے لیے تعاون بڑھانے پر متفق ہو گئے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات