1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چین اور امیزون میں میں خشک سالی، عالمی ماحولیاتی خطرہ

ماہرین ماحولیات کے مطابق چین کے شمالی علاقوں اور امیزون میں خشک سالی کے باعث نہ صرف معاشی حوالے سے عالمی مسائل جنم لے سکتے ہیں بلکہ یہ صورتحال اگر زیادہ دیر تک جاری رہی تو عالمی ماحول بھی اس سے شدید متاثر ہوسکتا ہے۔

default

چین کے شمالی علاقے ان دنوں گزشتہ 60 برسوں کی شدید ترین خشک سالی کا شکار ہیں۔ خشک سالی پر قابو پانے والے چینی ادارے کے مطابق ان میں سے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں گزشتہ چار مہینے سے کوئی بارش نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے قریب 50 لاکھ ہیکٹر پر موجود فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ رقبہ جنوبی کوریا کے آدھے حصے کے برابر ہے۔

China Alltag 2009 Dürre in Henan

چین کے شمالی علاقے ان دنوں گزشتہ 60 برسوں کی شدید ترین خشک سالی کا شکار ہیں

ماہرین کے مطابق اگر یہ خشک سالی کچھ وقت اور جاری رہی، یعنی اگر مارچ اور اپریل میں بھی بارشیں نہیں ہوئیں تو یہ صورتحال چین میں گندم کی پیداوار میں 10 ملین ٹن تک کمی کا باعث بنے گی۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اگر ایسا ہوا تو دنیا بھر میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔

چینی محکمہ موسمیات کی طرف سے مستقبل قریب میں بھی زیادہ بارشوں کی کوئی پیش گوئی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے توقع کی جارہی ہے کہ موسم گرما نہ صرف جلد شروع ہوجائے گا بلکہ یہ نسبتاﹰ زیادہ گرم بھی ہوگا۔

دوسری طرف جنوبی امریکہ میں واقع دریائے امیزون کے ارد گرد کا خطہ بھی بارشوں کی شدید کمی کا شکار ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کی اس خشک سالی کے باعث کئی بلین ٹن زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں داخل ہوگی۔

Brandrodung in Brasilien Urwald Ackerland

محققین کے مطابق امیزون کے علاقے میں گزشتہ برس کے دوران کئی ملین درخت خشک سالی کے باعث مر گئے

محققین کے مطابق امیزون کے علاقے میں گزشتہ برس کے دوران کئی ملین درخت خشک سالی کے باعث مر گئے، جس کا مطلب ہے کہ امیزون کا یہ خطہ نہ صرف پہلے کے مقابلے میں کم کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جذب کررہا ہے بلکہ مرنے والے درختوں کے گلنے سڑنے سے اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی فضا میں داخل ہو رہی ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز کے محقق سائمن لیوس Simom Lewis اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے کی گئی تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے 'سائنس' میں جمعرات تین فروری کو شائع ہوئے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق امیزون کے علاقے میں سن 2005ء کے بعد اب 2010ء کی خشک سالی کے باعث مجموعی طور پر فضا میں 13 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوگی۔ فضائی حدت میں اضافے کا باعث بننے والی اس گیس کی یہ مقدار اتنی ہی ہے جتنی امریکہ اور چین نے مجموعی طور پر سال 2009ء میں فضا میں خارج کی تھی۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس