1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین اور امریکہ کے مابین اقتصادی تعلقات پر مذاکرات

امريکہ اور چين کے اقتصادی تعلقات بہت گہرے ہيں اور دونوں کی خوشحالی اور بدحالی ايک دوسرے سے وابستہ ہے۔ پیر اور منگل کو واشنگٹن ميں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام خاص طور پر اقتصادی مسائل پر بات چيت کررہے ہيں۔

default

مارچ 2009 ميں مرکز برائے عسکری اور بین الاقوامی علوم نے امريکہ اور چين کے تعلقات کے بارے ميں ايک مطالعاتی رپورٹ شائع کی تھی۔ واشنگٹن کے، خارجہ امور کے اس تھنک ٹينک نے اس مطالعاتی رپورٹ کے پہلے ہی جملے ميں لکھا کہ چين اور امريکہ کے تعلقات کے اثرات عالمی امور پر کسی بھی دوسرے ممالک کے تعلقات سے زيادہ پڑ سکتے ہيں۔ اس مطالعے کے آخری پيراگراف ميں يہ الفاظ ملتے ہيں کہ امريکہ اور چين کے مابين تعاون کے بغير کسی عالمی چيلنج پر قابو پانا ممکن نہيں ہے اور جو چيلنج سر فہرست ہے وہ ہے، دنيا بھر ميں پھيلا اقتصادی اور مالياتی بحران۔ امريکی وزير خزانہ Timothy Geithner نے، جون ميں اپنے دورہء چين دوران کہا تھا: "ايک متوازن اور کامياب اقتصاديات کے لئے يہ ضروری ہے کہ پوری دنيا ميں اقتصادی سياست اور مالی اقتصاديات کے ضوابط ميں بڑی تبديلياں لائی جائيں۔ ان ميں سے بعض اہم تبديلياں امريکہ اور چين کو کرنا پڑيں گی۔ بقيہ دنيا کی اقتصاديات کی کاميابی يا ناکامی کا انحصار واشنگٹن اور بيجنگ کی کاميابی يا ناکامی پر ہوگا۔"

Obama und Geithner

امریکی صدر اور وزیر خزانہ

چین نے پیر سے واشنگٹن میں شروع ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے لئے اپنے تقريباً تمام اہم اعلیٰ افسران کو امریکہ بھيجا ہے۔

دنيا کی سب سے بڑی طاقت امريکہ اور ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت چين کی قومی معيشتيں آپس ميں بہت زيادہ پيوست ہيں۔ چين، امريکی منڈيوں کو سستی اشيائے صرف فراہم کرتا ہے اور ان منڈيوں پر اس کا انحصار بھی ہے تاکہ اس کی اپنی معیشت ترقی کرتی رہے، روزگار کے مواقع پيدا ہوتے رہيں، اور اس کے نتيجے ميں معاشرتی استحکام برقرار رہے۔

دونوں ملکوں کی تجارت کا حجم 2008 ميں چار سو ارب ڈالر تھا ليکن اس ميں امريکہ کا تجارتی خسارہ دو سو چھياسٹھ ارب ڈالر تھا۔ چين کے ساتھ تجارت ميں مسلسل بڑھتے ہوئے خسارے پر واشنگٹن ميں کئی برسوں سے ناراضگی پائی جاتی ہے۔

چين، امريکہ اور يورپی يونين کے ساتھ تجارت ميں جو منافع کماتا ہے وہ دوبارہ چين سے امريکہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اندازہ ہے کہ چين کے زرمبادلہ کے ذخائر ميں سے ستر فيصد امريکی ڈالر کی شکل ميں ہيں۔ چين نے تقريباً آٹھ سو ارب ڈالر کے امريکی رياستی بونڈ بھی خريد رکھے ہيں۔ اس کا مطلب يہ ہے کہ چين کو امريکہ کے ساتھ تجارت ميں جو نفع ہوتا ہے، اس کے ذريعے وہ امريکہ کا قومی بجٹ چلارہا ہے۔ امريکی وزارت خزانہ کے مطابق امريکہ کے مجموعی غيرملکی قرضوں کا تقريباً چوتھائی حصہ ،چينی قرضوں کا ہے۔ اس طرح چین امريکہ کو قرضے دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ صنعتوں کو بچانے کے لئے امريکی حکومت کے بيل آؤٹ پيکنجز کی وجہ سے امريکہ کو چينی سرمائے کی اور بھی زيادہ ضرورت ہے۔ اسی لئے امريکی وزير خارجہ ہليری کلنٹن نے فروری ميں اپنے دورہء چين کے دوران کہا تھا: "ميں اس کی قدر کرتی ہوں کہ امريکی رياستی بونڈز پر چين کا اعتماد برقرار ہے۔ يہ اعتماد بہت اچھی بنيادوں پر قائم ہے۔"

تاہم امريکی ڈالر پر چين کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ چينی وزير اعظم وين جيا باؤ نے مارچ ميں کہا تھا کہ چين کو اپنے ڈالر کے ذخائر کی سلامتی کی فکر ہے۔

جرمنی کے معروف مالیاتی ادارے ڈوئچے بينک کے شعبہ تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چين نے سرمايہ کاری کا جو يکرخا طريقہ اختيار کيا ہے، يعنی سب کچھ ڈالر ميں لگا دياہے، وہ عقلمندی نہيں ہے اور عموماً ايسا نہيں کيا جاتا۔ اگر چين،بڑی مقدار ميں ڈالر فروخت کرنا شروع کردے تو مالياتی منڈيوں ميں طوفان آ جائے،ليکن جس نے کسی چيز پر اتنا زيادہ سرمايہ لگايا ہو، وہ اسے کامياب بھی ديکھنا چاہے گا اوراسے خطرے سے دوچار نہيں کرے گا۔

اس لئے اندازہ يہی ہے کہ واشنگٹن کی خوشی کا سبب بنتے ہوئے چينی آئندہ بھی اپنے منافع کو ڈالر ہی کی شکل ميں محفوظ کرتے رہيں گے۔

رپورٹ: / Mathias von Hein شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک