چینی یوآن میں تجارت کی جا سکتی ہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک | حالات حاضرہ | DW | 03.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی یوآن میں تجارت کی جا سکتی ہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک

پاکستان نے برآمدات، در آمدات، سرمایہ کاری اور دو طرفہ تجارت کے لیے چینی کرنسی یوآن کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ اقتصادی ماہرین کی رائے میں یہ عمل سی پیک منصوبے میں بھی مدد گار ثابت ہو گا۔

منگل کے روز پاکستانی اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے،’’سرکاری اور نجی کمپنیاں دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے چینی کرنسی یوآن  استعمال کر سکیں گے۔‘‘ پاکستان کے مرکزی بینک کے بیان میں مزید کہا گیا،’’ غیر ملکی کرنسیوں سے متعلق حالیہ قانون کے مطابق چینی کرنسی یوآن پاکستان میں کاروبار کرنے کے لیے ایک منظور شدہ کرنسی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق چینی یوآن  پاکستان میں عائد قوانین کے مطابق امریکی ڈالر، یورو اور جاپانی ین کے مساوی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:50
Now live
00:50 منٹ

پاکستان اور چین کے درمیان اہم معاہدوں پر دستخط

معاشی تجزیہ کار سلمان شاہ نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا،’’ سی پیک منصوبے میں امریکی ڈالر کے بجائے چینی یوآن کا استعمال بہت کچھ آسان بنا دے گا۔‘‘

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میں چین کی بھاری سرمایہ کاری کے پیش نظر چینی یوآن میں کاروبار کرنے کی اجازت سے پاکستان کی معیشت پر دوررس مثبت نتائج مرتب ہوں گے۔

پاک چین اقتصادی راہ داری 54 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے جو مغربی چین کو پاکستان کے ذریعے بحر ہند سے جوڑ دے گا۔ پاکستانی حکام اس منصوبے کو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی فائدے مند اقدام ٹھہراتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:00
Now live
01:00 منٹ

گوادر پورٹ ’ترقی کا زینہ‘

Audios and videos on the topic