1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چینی ہم جنس پرست خاتون کا حکومت پر مقدمہ

چین کی ایک ہم جنس پرست خاتون نے نصابی کتب میں ہم جنس پرستی کو ذہنی بیماری قرار دینے پر حکومت پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس مقدمے کو چین میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

مقدمہ دائر کرنے والی خاتون کی عمر اکیس برس ہے اور وہ گوانگ ژُو کی سن یات سین یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ کیو بائی نامی طالبہ نے چین کی وزارت تعلیم کو عدالت میں فریق بنایا ہے۔ اُس نے وزارت سے پوچھا ہے کہ اُس نے کیوں کر ہم جنس پرستی کو ذہنی بیماری قرار دیا ہے۔ چین کے سماجی حلقے اِس مقدمے کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ موافق عدالتی فیصلہ آنے سے اُن کے ملک میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رکھنے کے رویے کی حوصلہ شکنی ہو سکے گی۔

کیو بائی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو وہ سرکاری دستاویز دکھائی جس کا عنوان’ اسٹوڈنٹ سائکولوجیکل ہیلتھ‘ ہے۔ یہ مینول رواں برس ہی شائع کیا گیا اور اِس کی اشاعت چین کی ممتاز یونیورسٹی رینمِن یونیورسٹی نے کی ہے۔ اِسی کو طلبا میں تقسیم بھی اِسی یونیورسٹی نے کیا ہے۔ یہ یونیورسٹی دارالحکومت بیجنگ میں واقع ہے۔ اِس میں واضح طور پر درج کیا گیا ہے کہ جنسی راستے سے انحراف کی عمومی صورت ہم جنس پرستی ہے اور اِس کی بیمار صورتیں مخنث بننا، جنس مخالف کا لباس پہننے کا شوق، بےجان شے سے جنسی لذت کا حصول یا فیٹش ازم، اذیت پرستی، چھپ کر خواتین کو عریاں دیکھنے کی عادت اور کم لباس پہن کر خود نمائی کرنا ہیں۔

Lesben in China

چین کے کئی علاقوں میں ہم جنس پرستی کو ذہنی عارضہ خیال کیا جاتا ہے

چینی خاتون نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے سکیورٹی کے تناظر میں اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ اُس کا کہنا تھا کہ تمام نفسیاتی کتب میں ہم جنسی پرستی کے حوالے سے ایسا ہی یا اِس سے ملتا جلتا مواد شامل ہے۔ اُس نے یہ بھی بتایا ہے کہ اِس مقدمے پر اُسے یونیورسٹی کا دباؤ بھی ہے کہ وہ اِس دستبردار ہو جائے۔ وہ قوس قزح کا پرچم سنبھالے ہوئے خاصی پرجوش دکھائی تھی کہ اِس مقدمے کے باعث اب وہ براہِ راست وزارتِ تعلیم سے مکالمت کر سکے گی۔

چینی دارالحکومت بیجنگ کے عدالتی علاقے فینگ ٹائی میں مقدمے کی پیشی کے موقع پر کئی لوگ جمع ہوئے اور وہ ہم جنس پرستی کی حمایت میں بینر اٹھائے ہوئے تھے۔ چین میں ہم جنس پرستی کی وکالت کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کے ڈائریکٹر پینگ یان ہوئی کا کہنا ہے کہ مختلف کتب خانوں میں دستیاب کتب میں بیالیس فیصد ایسی ہیں جن میں ہم جنس پرستی کو ایک بیماری یا ذہنی عارضہ قرار دیا گیا ہے۔ چین میں سرکاری طور پر ہم جنس پرستی کو سن 1997 میں اُس جرائم کی فہرست سے خارج کیا گیا تھا، جس کے تحت ایسا کرنے والوں کو سزا سنائی جاتی تھی۔ چار برس قبل چینی حکومت نے اِس کو ذہنی امراض کی فہرست سے بھی نکال دیا تھا۔