1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چینی کمیونسٹ پارٹی کے نوّے برس

نوّے برس قبل چند دانشوروں کے ہاتھوں جس جماعت کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی حکمران جماعت ہے، تاہم یہ امر اس کے زوال کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

default

چین میں جمعہ یکم جولائی کو حکمران کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی نوّے ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سرکاری سطح پر کئی تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، اور حکومتی ذرائع ابلاغ کمیونسٹ پارٹی کی سالگرہ کو زبردست کوریج دے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کی رائے ہے کہ چین میں یک جماعتی نظام کا مستقبل تابناک نہیں دکھائی دے رہا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ہانگ کانگ کی چینی یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز سیمور نے کہا پارٹی کی اندرونی کمزوریاں اس کو زیادہ عرصے تک قائم نہیں رکھ پائیں گی۔ اس حوالے سے انہوں نے روس کی کمیونسٹ پارٹی کے زوال کا حوالہ دیا۔ پروفیسر سیمور کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی جمہوری طریقے سے نہیں چلائی جاتی۔ ’’شرح پیداوار نے ماحولیاتی ابتری پیدا کی ہے، اور نہ ہی چین میں صحت کی مناسب سہولیات ہیں‘‘، پروفیسر سیمور کے الفاظ۔

NO FLASH Symbolbild China Chinesische Währung Renminbi Yuan

ماؤ کا کمیونسٹ چین اب سرمایہ داری کی راہ پہ چل پڑا ہے، تاہم اس نظام کی باگ ڈور کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں ہی ہے

سی پی کو درجن بھر دانشوروں نے جولائی انیس سو اکیس میں قائم کیا تھا۔ انیس سو انچاس میں کمیونسٹ رہنما ماؤ زے تنگ کی قیادت میں اس جماعت نے ایک خونی خانہ جنگی کے بعد چینی اقتدار سنبھالا تھا۔ تیس برس تک ماؤ نے ملک اور پارٹی کی باگ ڈور بلا شراکتِ غیر اپنے ہاتھ میں رکھی۔

ماؤ کے انتقال کے بعد آئندہ آنے والے چینی حکمرانوں نے گو کہ پارٹی میں اصلاحات کیں تاہم پارٹی پر ایک مخصوص ٹولے کا کنٹرول بدستور قائم رہا۔

عالمی معیشت پر نظر رکھنے والے بہت سے دانشوروں کی رائے ہے کہ چین میں جس رفتار سے معاشی ترقی ہو رہی ہے، اور جس طرح سرمایہ دارانہ نظام اور آزاد منڈی کی اقتصادیات نشو نما پا رہی ہیں، وقتی طور پر تو سیاسی سطح پر یک جماعتی نظام کارآمد ثابت ہو سکتا ہے تاہم طویل عرصے کے لیے کمیونسٹ پارٹی شاید معاملات اکیلے طے نہ کر سکے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM