1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چینی کمپنی علی بابا کا انٹرنیشنل عروج اور زوال

چین کی کمپنی علی بابا کو ممنوعہ اور مسروقہ اشیاء فروخت کرنے پر بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس چینی کمپنی کی عالمی سطح پر انتہائی زیادہ پذیرائی ہو چکی ہے۔

انٹرنیشنل اینٹی کاؤنٹرفیٹنگ کوالیشن (International Anti-Counterfeiting Coalition) نے چین کی بہت بڑی ای کامرس کمپنی علی بابا کو اپنے گروپ میں شامل کر کے اِسے ایک مضبوط و توانا پارٹنر قرار دیا اور اِس کے مالک جیک ما کو امریکی ریاست فلوریڈا کے مقام اورلینڈو میں منعقدہ اسپرنگ کانفرنس میں کلیدی تقریر کے لیے مدعو بھی کیا۔ اب ممنوعہ، جعلی اور مسروقہ اشیا کی فروخت کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نے علی بابا کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر علی بابا کی غیر معمولی ترقی کو چین کی اقتصادی ترقی کی کامیابی کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ جس انداز میں حالیہ دنوں میں علی بابا کی جگ ہنسائی ہوئی ہے یہ چین کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی ادارے انٹرنیشنل اینٹی کاؤنٹرفیٹنگ کوالیشن کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد اسی عالمی ادارے کی طرف سے علی بابا کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کسی طور پر مناسب خیال نہیں کیا گیا ہے۔ اخراج کی وجہ انٹرنیشنل اینٹی کاؤنٹرفیٹنگ کوالیشن کے بنیادی اصولوں اور ضوابط سے علی بابا کمپنی کا انحراف ہے۔ عالمی سطح پر ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ علی بابا کے اخراج کا منفی اثر امریکا اور چین کے تعلقات پر بھی ہو سکتا ہے۔

Jack Ma / Ma Yun Auftritt beim WEF in Davos 23.01.2015

علی بابا کمپنی کے مالک جیک ما

خیال کیا گیا ہے کہ علی بابا جعلی اشیاء کی فروخت سے دولت کے انبار لگانے میں کامیاب ہوئی ہے اور یہی اِس کے اخراج کی ایک اہم وجہ ہے۔ چینی کمپنی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ علی بابا کا امریکا کی ممنوعہ اور جعلی اشیاء کی فروخت کی اربوں ڈالر مالیت کی ممنوعہ انڈسٹری میں ممکنہ کردار ہو سکتا ہے اور یہ صارفین کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف خیال کیا جاتا ہے۔ ممنوعہ اور جعلی سامان کی اربوں ڈالر انڈسٹری، خفیہ منی لانڈرنگ کے سلسلے کو تقویت بھی دیتی ہے اور اِس کے منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ روابط بھی ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق چین کی علی بابا ایک ایسی کمپنی ہے جو بظاہر سامنے ہے لیکن اُس کے جعلی سامان کا کاروبار کرنے والوں کے ساتھ روابط کا تذکرہ عام ہونے لگا ہے اور کوئی ایک معمولی نوعیت کی ڈیل ساری کمپنی کے ڈوبنے کے لیے کافی ہو گی۔

معتبر ادارے پیٹرسن انسٹیٹیوٹ برائے انٹرنیشنل اکنامکس میں چین کے شعبے کے پروگرام مینیجر شین مائنر کا کہنا ہے کہ علی بابا کے بعد اب چین کی ہر کمپنی کی انٹرنیشنل سطح پر کارباری ڈیل اسپاٹ لائٹ میں ہے اور اُن کی منزل تک پہنچنے سے قبل ہی علی بابا کی کہانی وہاں پہنچی ہوتی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ چین کی سترہ سال قبل قائم ہونے والی ایک چھوٹی سے کمپنی نے تقریباً سولہ بلین ڈالر کی ای کمپنی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ انٹرنیٹ پر اِس کمپنی سے گزشتہ برس 423 ملین صارفین نے اپنے آرڈرز بک کرائے تھے۔ علی بابا نے تمباکو مصنوعات میں خاص طور پر بہت مال کمایا اور بنایا ہے۔ امریکی عدالت میں دائر ایک مقدمے میں گُوچی اور فرانس کے کیرنگ گروپ نے علی بابا پر اُن کے برانڈ کی جعلی فروخت کرنے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

DW.COM