1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چینی منحرف کی اہلیہ کا پارلیمان کے نام خط، خفیہ گرفتاریوں پر تنقید

چین منحرف آئی وے وے کی اہلیہ نے قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اُس مجوزہ قانون کو مسترد کر دیں، جس کے تحت حکومت کے منحرفین کو ان کے گھر والوں کو معلومات فراہم کیے گئے بغیر خفیہ جگہوں میں حراست میں رکھا جا سکے گا۔

default

چینی فنکار آئی وے وے کی اہلیہ لیو چنگ

آئی وے وے کی اہلیہ لیو چنگ نے کہا ہے کہ اگر مجوزہ قانون منظور کر لیا گیا تو اس سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے امکانات میں اضافہ ہو جائے گا۔ انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اس قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر چین کے فوجداری قانون میں ان ترامیم کو شامل کر لیا گیا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ وسیع تر حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ لوگوں کو خفیہ طور پر گرفتار کر سکیں۔

آئی وے وے کی اہلیہ لیو چنگ نے پارلیمان کے نام خط میں تحریر کیا ہے،’اگر چینی پارلیمان میں مجوزہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس سے ملکی قانونی نظام پیچھے کی طرف لوٹ جائے گا اور انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی۔ یہ قانون ہماری تہذیب و تمدن کی ترقی کی راہ میں بھی حائل ہو جائے گا‘۔

Flash Galerie Ai Weiwei im Fotomuseum Winterthur

بین الاقوامی شہرت کے حامل چینی فنکار آئی وے وے

آئی وے وے کے گوگل پلس اکاؤنٹ پر بھی شائع ہونے والے اس خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ جب کسی بھی شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کے گھر والوں کا یہ ایک اہم بنیادی حق ہوتا ہے کہ انہیں اس بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ ان کی طرف سے یہ خط ایسے وقت میں شائع کیا گیا ہے جب چینی پارلیمان نے اس مجوزہ قانون پرعوامی رائے مانگی ہے۔

چین میں اس طرح پارلیمان کو کھلے خط لکھنے کی روایت مضبوط نہیں ہے اور اس صورت میں ہمیشہ پارلیمان کی طرف سے خاموشی ہی اختیار کی گئی ہے۔

رواں برس اگست کے اواخر میں بحث کے لیے پیش کیے گئے مجوزہ قانون کے مطابق ریاستی سکیورٹی کو زک پہنچانے، دہشت گردی اور بڑے پیمانے پر رشوت جیسے جرائم میں مبینہ طور پر ملوث پائے جانے والے افراد کو خفیہ جگہوں پر قید کیا جا سکتا ہے اور اگر تفتیش کے عمل میں کسی رخنے کا اندیشہ ہو تو ان کے گھر والوں کو مطلع بھی نہیں کیا جائے گا۔

بین الاقوامی شہرت کے حامل چینی فنکار آئی وے وے کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے باعث رواں برس 81 دن تک حراست میں رہنا پڑا تھا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد بھی انہوں نے چین کی کیمونسٹ پارٹی اور سنسر شپ پر اپنی تنقید جاری  رکھی تاہم بیجنگ حکومت نے اگست میں ان پر انٹرنیٹ کے استعمال اور انٹرویو دینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM