1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی معیشت میں سست روی، دنیا کی کئی معیشتیں متاثر

چین کی مرکزی اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں آج پیر 24 اگست کے روز 8.5 فیصد کمی دیکھی گئی۔ دنیا کی اس دوسری سب سے بڑی معیشت کی سست روی نے خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ اس کے باعث دنیا کی دیگر بڑی معیشتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

آج پیر 24 اگست کو شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 3,209.91 پوائنٹس تک گِر گیا۔ اس کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ زیادہ کمپنیوں کو 10 فیصد تک نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کمی کے باعث 2015ء کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی تمام تر بہتری کا اثر ختم ہو گیا ہے۔ تاہم یہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اب بھی 40 فیصد زائد ہے۔

شنگھائی اسٹاک مارکیٹ میں یہ کمی اور چینی معیشت کی اس سست روی کے منفی اثرات آج پیر کے روز یورپی اسٹاک مارکیٹس میں بھی دیکھے گئے۔ برطانیہ کے FTSE 100 انڈیکس میں 2.3 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے، فرانس کے CAC 40 انڈیکس میں 2.2 فیصد گراوٹ ہوئی جبکہ جرمنی کا DAX انڈیکس بھی 2.5 فیصد گِر گیا۔

قبل ازیں اس سست روی کے اثرات آج ایشیائی بازار حصص میں بھی دیکھے گئے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 5.2 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ جاپان کا Nikkei 225 انڈیکس 4.6 فیصد گرا۔ ادھر آسٹریلیا کے S&P ASX/200 میں بھی مندی دیکھی گئی اور اس میں 4.1 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ جنوبی کوریا کے Kospi انڈیکس نے 2.5 فیصد کا نقصان اٹھایا۔

جرمنی کا DAX انڈیکس بھی 2.5 فیصد گِر گیا

جرمنی کا DAX انڈیکس بھی 2.5 فیصد گِر گیا

خیال رہے کہ اختتام ہفتہ پر ابھرتی ہوئی اسٹاک مارکیٹس مثلاﹰ مصر، دبئی اور سعودی عرب وغیرہ میں بھی مندی کا رحجان دیکھا گیا تھا۔ چینی معیشت میں سست روی کے تازہ شواہد کے بعد جمعہ 21 اگست کو یورپ اور امریکا میں بھی اسٹاکس کی فروخت کا رحجان حاوی رہا۔ اسی باعث S&P انڈیکس میں 500 پوائنٹ کی کمی ہوئی جو اس کے مجموعی حجم کا چھ فیصد بنتا ہے۔ 2011ء کے بعد کسی ایک ہفتے کے دوران یہ سب سے بڑی کمی ہے۔

گزشتہ برس چینی معیشت کی شرح نمو 7.4 فیصد رہی جو 1990ء کے بعد کی کم ترین شرح تھی۔ رواں برس معیشت میں بہتری کی یہ شرح مزید کم ہوئی ہے اور پہلی دو سہ ماہیوں کے دوران مجموعی طور پر یہ 7.0 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی معیشت کی شرح نمو بہت سے بڑے ممالک سے زائد ہے تاہم بیجنگ حکومت کی طرف سے اپنی کرنسی یوآن کی قدر میں کمی کے حالیہ فیصلے نے عالمی سطح پر خدشات کو جنم دیا ہے کہ معیشت میں اصل بہتری شاید اس سے کہیں کم ہے جتنی سرکاری طور پر بتائی گئی ہے۔