1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی مصنف لِیُوشِیاؤبو گرفتار

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت مخالف اہم سیاسی رہنما لِیُوشِیاؤبو کو منگل کے روز گرفتار کرلیا گیا ہے۔ لِیُوشِیاؤبو پر ملک میں انتشار پھیلانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔

default

53 سالہ لیو ژیاؤبو کو چین میں جمہوری اصلاحات سے متعلق منشور تحریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے

53 سالہ لِیُوشِیاؤبو کو چین میں جمہوری اصلاحات سے متعلق منشور تحریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ شِیاؤبوملک میں نافظ اشتراکی نظام حکومت کے خلاف کافی عرصہ سے سرگرم عمل رہے ہیں۔ چینی حکومت نے دسمبر میں شِیاؤبوکی معاونت سے تحریر شدہ منشور کی اشاعت سے دو روز قبل انہیں نظر بند کردیا تھا۔

چینی سرکاری حبر رساں ادارے نے پولیس دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا : " لیو چین میں حکومت مخالف سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں، جن کا مقصد ملک میں رائج اشتراکی نظام کو ختم کرنا ہے"۔

Liu Xiaobo Demonstration in Hongkong 2008

مصنف کی گرفتاری کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے

چین میں انسانی حقوق کی تنظیم CHRDنے شِیاؤبوکی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ CHRDکے ترجمان کے مطابق شہری حقوق کے اٹارنی موشواپنگ کو ان کا مقدمہ لڑنے سے روک دیا گیا تھا کیوں کہ مو نے بھی شِیاؤبو کے دستاویز پر دستخط کئے تھے۔

شِیاؤبوکی گرفتاری کے حوالے سے ان کے وکیل کا کہنا ہے : ’’ان کی بیوی کو پولیس کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں ان کی گرفتاری کا بتایا گیا تھا۔ مجھے اس حوالے سے کچھ علم نہیں تھا۔ مجھے اس بارے میں خبروں سے پتا چلا۔‘‘

شِیاؤبو کے وکیل کا مزید کہنا ہے : ’’ان کی باقاعدہ گرفتاری کے بعد، چینی حکومت کے پاس تفتیش کے لئے دو مہینے ہیں۔‘‘

لیو شِیاؤبوکے وکیل نے مذیدکہا : ’’یہ توقع پہلے ہی سے کی جارہی تھی کہ لیو کو آخرکار گرفتار کرلیا جائے گا۔ میں قانون کے مطابق ان کے مقدمہ لڑنے کی درخواست دائر کروں گا۔‘‘

شِیاؤبو کو بیجینگ میں ایک خفیہ مقام پر نظر بند رکھا گیا تھا، جس پر پوری دنیا کے انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی۔

لیو شِیاؤبو کی رہائی کے لئے ان کے سینکڑوں حامیوں اور عالمی مصنفوں، مفکروں، وکیلوں اور انسانی حقوق کے لئے سرگرم افراد نے اپیل کی ہے۔ لیوشِیاؤبوکی معاونت بنائے گئے منشور Charter 08 پر 300 دانشوروں کے دستخط موجود ہیں۔

رپورٹ : میراجمال

ادارت : عاطف توقیر