1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی مسلمانوں کو ڈی این اے نمونے کی شرط پر سفری دستاویزات کا اجرا

مغربی چینی صوبے سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کو سفری دستاویزات کے اجرا کے لیے ڈی این اے نمونہ دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ مقامی حکام نے پہلے ہی مسلمانوں پر رمضان میں روزے رکھنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

چینی حکومت کی جانب سےجاری کردہ ان تازہ ترین احکامات میں کہا گیا ہے کہ سنکیانگ صوبے میں بسنے والے مسلمانوں کو سفری دستاویزات صرف اسی صورت میں جاری کی جائیں گی، جب وہ اپنے ڈی این اے کا نمونہ دیں گے۔

مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان سنکیانگ صوبے میں امن کے اعتبار سے خاصا حساس ہوتا ہے۔ بیجنگ حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ اس مسلم اکثریتی صوبے میں ایغور نسل کے باشندے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث رہے ہیں، جن میں حالیہ کچھ برسوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

China Gewalt zwischen Uiguren und Chinescher Polizei

ایغوروں کو شکایت ہے کہ ان کی ثقافتی اور مذہبی پہچان پر ضرب لگائی جا رہی ہے

تاہم اب حکام نے اس صوبے کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ سفری دستاویزات کے لیے دی جانے والے درخواستوں کے ساتھ اپنے ڈی این اے کے نمونے، انگلیوں کے نشانات اور آواز کے نمونے بھی دیں گے۔ اس کے علاوہ ان باشندوں کو سہ جہتی تصاویر جمع کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے اور ان تمام دستاویزات اور نمونوں کے بعد کسی شخص کو پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ اس علاقے کے رہنے والوں کو ہانگ کانگ اور مکاؤ جیسے چینی انتظامی علاقوں یا تائیوان جانے کے لیے پاسپورٹ کے علاوہ ایک علیحدہ اجازت نامہ بھی درکار ہو گا۔

اس نئی پالیسی کا اطلاق ماہ رمضان سے کیا جا چکا ہے، جب کہ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ چینی حکومت ملک کی اس مسلم اقلیت کے ساتھ غیرمساوی سلوک برت رہی ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کے لیے متعلقہ نمونے جمع نہ کرانے پر پاسپورٹ کے حصول کے لیے دی جانے والی درخواستیں مسترد کر دی جائیں گی۔

اس سے قبل سنکیانگ کی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر کمیونسٹ پارٹی کے ارکان، حکومتی عہدیداروں، طلبہ اور کم عمر افراد کو روزہ نہ رکھنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ویب سائٹ میں کہا گیا تھا کہ ماہ رمضان میں کھانے پینے سے متعلق دکانیں کسی صورت بند نہ ہوں۔

ایغور مسلمانوں کا موقف ہے کہ چینی حکومت اپنی سخت پالیسیوں کے ذریعے مسلمانوں کی ثقافت اور مذہب پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے اور یہ غیرمساوی سلوک انہیں پالیسیوں کا مظہر ہے۔