1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چینی مزدوروں کی ہڑتالوں سے مالکان پریشان

کمیونسٹ نظام والے عوامی جمہوریہ چین کے کئی صنعتی اداروں میں مزدورں کی ہڑتالوں کے باعث کمپنی مالکان ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

default

اس صورت حال کے پیش نظرتجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب لوگ چین کو سستی محنت کی ورکشاپ کے نام سے جاننا چھوڑ دیں گے۔ ماہرین کے مطابق مزدوروں کی کم ہوتی ہوئی تعداد اور ہڑتالوں کے باعث سماجی بے چینی کے خوف نے صنعت کاروں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ محنت کش طبقے کی اجرتوں میں اضافہ کریں۔

ایک مشہور تائیوانی کمپنی Foxconn کے ملازمین کی جانب سے خودکشی کے متعدد واقعات اور جنوبی چین میں واقع ہونڈا آٹو پارٹس کے صنعتی یونٹسں میں ہڑتال نے کئی ماہرین کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کردیا ہے کہ اب فیکڑی مالکان مزدوروں کو آسانی سے سستی اجرت پر کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکیں گے۔

چینی حکومت بھی ان ہڑتالوں اور مزدور طبقے میں بے چینی پر پریشان نظر آتی ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ یہ صورت حال کسی بڑی سماجی افراتفری کا باعث بن سکتی ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر کمیونسٹ حکومت نے پورے ملک میں کم از کم اجرت میں اضافے کا منصوبہ بنایا ہے۔

آل چین فیڈریشن آف ٹرید یونین کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں چین میں زبردست معاشی ترقی ہوئی ہے لیکن ایک چوتھائی چینی مزدوروں کی اجرت میں اس دوران کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

Streik in Foshan

ہڑتالوں کے باعث سماجی بے چینی کے خوف نے صنعت کاروں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ محنت کش طبقے کی اجرتوں میں اضافہ کریں

اب Foxconn، جس کے صارفین میں ڈیل، ایپل، سونی اور پینا سونک جیسی کمپنیاں شامل ہیں، نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں 70 فیصد اضافہ کیا ہے۔ جاپان میں گاڑیاں بنانے والی دوسری بڑی کمپنی ہونڈا نے گزشتہ ہفتے اپنے مزدوروں کی تنخواہوں میں 24 فیصد اضافہ اس ہڑتال کو ختم کرانے کے لئے کیا، جس کی وجہ سے اس کی صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہورہی تھی۔

جاپانی کمپنی کی طرح ایک تائیوانی صنعتی ادارے 'میری الیکٹرونکس کو' نے بھی اپنی صنعتی پیداوار کو ہڑتال سے بچانے کے لئے 7000 ملازمین کی تنخواہوں میں 17 فیصد اضافہ کیا۔

ان ہڑتالوں نے چینی سرمایہ کاروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اجرتوں میں اضافہ چین کے اُس بڑے صنعتی پیداواری نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جو عالمی معاشی بحران کے جھٹکوں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ : عبدالستار

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM