1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی فوجی پریڈ، طاقت کا ’سب سے بڑا‘ مظاہرہ

چینی دارالحکومت بیجنگ میں بڑے پیمانے پر فوجی پریڈ کا انعقاد کرتے ہوئے آج ’یومِ فتح‘ منایا جا رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد چین کی طرف سے اپنی فوجی طاقت کا یہ سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔

دارالحکومت بیجنگ میں اس پریڈ کا انعقاد براعظم ایشیا میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام اور ٹوکیو حکومت کی طرف سے شکست کے اعلان کے ستّر برس مکمل ہونے کی یاد میں کیا جا رہا ہے۔ اس پریڈ میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سمیت کوئی تیس ملکوں کے رہنما شریک ہوئے۔ پاکستانی صدر ممنون حسین بھی اسی پریڈ کے سلسلے میں چین کے دورے پر ہیں۔

اس تقریب سے پہلے چین نے اپنی فوج کی نفری میں تین لاکھ کی کمی کا بھی اعلان کیا ہے۔ چین کی فوج اس وقت تقریباﹰ تئیس لاکھ فوجیوں پر مشتمل ہے اور اس کا شمار دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں ہوتا ہے۔ تاہم چینی صدر شی جن پنگ نے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا کہ فوج میں کمی کب تک کی جائے گی۔ چین اپنی فوج کو جدید ترین بنانے میں مصروف ہے اور یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی بجائے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہتھیاروں کی تیاری میں کی جا رہی ہے۔

چینی صدر کا پریڈ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’تعصب اور امتیازی سلوک، نفرت اور جنگ سے صرف تباہی اور درد پیدا ہوتا ہے۔ چین ہمیشہ پر امن ترقی کے راہ کی پاسداری کرے گا۔‘‘ اس کے بعد شی جن پنگ کی طرف سے سیاہ رنگ کی لیموزین میں بیٹھ کے پریڈ کے فوجیوں کی قطاروں کا معائنہ کیا گیا۔ اس پریڈ میں بارہ ہزار سے زائد فوجی شریک تھے، جن میں سے زیادہ تر تعداد چینی فوجیوں کی تھی لیکن روس، پاکستان اور دیگر ملکوں کے فوجی بھی شریک تھے۔ اس پریڈ میں پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے بھی ایک مبصر گروپ کے طور پر شرکت کرتے ہوئے ایک وفد کی قیادت کی۔

دوسری عالمی جنگ میں شرکت کرنے والے فوجیوں کو خصوصی گاڑیوں کے ذریعے پریڈ میں لایا گیا، جب کہ ان کی گاڑیوں کے بعد بیلسٹک میزائل، ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان میں سے متعدد ہتھیار ایسے تھے، جو اس سے پہلے کبھی بھی عوامی سطح پر نہیں دیکھے گئے۔ جدید جیٹ اور بمبار طیاروں کے مختلف کرتب بھی دکھائے گئے۔

امریکی شہر نیویارک میں ایسٹ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار گریگ آسٹن کا کہنا تھا کہ فوجیوں میں کمی کا چین کی عسکری طاقت میں کمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چین ابھی یہی پیسہ فوج کے ان شعبوں میں لگانا چاہتا ہے، جہاں اس کا اسٹریٹیجک اثر زیادہ ہو گا۔