1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چینی صوبے سنکیانگ میں روزہ رکھنے پر ’پابندی‘

چینی حکومت نے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں حکومتی ملازمین، طالب علموں اور بچوں کو روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے۔ کئی دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کا آغاز پیر سے ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے چینی حکومت کی ویب سائٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنکیانگ میں کچھ ریستوانوں کو کھلا رہنے کے حکم نامے بھی جاری کیے گئے ہیں۔

DW.COM

چین کی کمیونسٹ پارٹی سرکاری طور پر لادین ہے جبکہ اس نے کئی برسوں سے بالخصوص سنکیانگ میں حکومتی ملازمین اور کم عمروں کے روزہ رکھنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ سنکیانگ کی آبادی دس ملین ہے، جہاں ایغور مسلمان اکثریت میں ہیں۔

سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین اکثراوقات ہی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ بیجنگ حکومت کا کہنا ہے کہ اس صوبے اور ملک کے دیگر علاقوں میں حملے کرنے والے جنگجوؤں کا تعلق سنکیانگ سے ہی ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں ایغور اور دیگر مسلمان اقلیتوں کے خلاف ریاستی سطح پر مذہبی اور ثقافتی پابندیوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق سنکیانگ میں ماہ رمضان سے قبل ہی متعدد حکومتی دفاتر میں یہ ںوٹس جاری کیے گئے کہ ملازمین ماہ رمضان میں روزے نہ رکھیں۔

وسطی سنکیانگ میں واقع شہر کورالا کی سرکاری ویب سائٹ پر درج ایک نوٹس کے مطابق، ’’پارٹی ممبرز، حکومتی ملازمین، طالب علم اور بچے ہرگز روزہ نہ رکھیں اور وہ کسی مذہبی سرگرمی کا حصہ بھی نہ بنیں۔‘‘

اسی نوٹس میں یہ بھی لکھا گیا کہ رمضان کے دوران کھانے پینے کے کاروبار بند نہ کیے جائیں۔ اسی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک دیگر نوٹس کے مطابق ایسے افراد کو مذہبی مقامات پر جانے سے بھی روکا جائے۔

اُرومچی میں ایجوکیشن بیورو کی ویب سائٹ پر گزشتہ ہفتے جاری کردہ ایک نوٹس میں کہا گیا کہ تمام طالب علم اور استاد نہ تو روزے رکھیں اور نہ ہی اس ماہ کے دوران وہ مسجدوں کا رخ کریں۔ اسی طرح التائی نامی شہر میں بھی بچوں کے روزے رکھنے کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

China Gewalt zwischen Uiguren und Chinescher Polizei

سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین اکثراوقات ہی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں

ورلڈ ایغور کانگریس نامی جلا وطن گروہ سے وابستہ دلشاد راشد نے چینی حکومت کے ان اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’چین سمجھتا ہے کہ ایغور مسلمانوں کے اسلامی عقیدہ سے چینی قیادت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔‘‘

اگرچہ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے ہر شہری کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزانے کی اجازت ہے لیکن اس ملک میں مذہبی گروہوں کی سخت طریقے سے نگرانی کی جاتی ہے اور انہیں کنٹرول کیا جاتا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات