1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی صوبے سنکیانگ اور پاکستانی کمپنیوں کے مابین نئے معاہدے

چین کے شورش زدہ صوبے سنکیانگ کی کمپنیوں نے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ دو بلین ڈالر کے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ان نئے سمجھوتوں کو دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں مزید بہتری کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

Pakistan Hafen Gwadar

پاکستان اور چین نے گزشتہ برس توانائی اور انفراسٹرکچر کے سمجھوتوں کو حتمی شکل دی تھی

چینی میڈیا میں جمعہ آٹھ اپریل کو شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کے ایک اعلیٰ اہلکار ژانگ چُن شیان کے دورہ پاکستان کے دوران اسی ہفتے ان سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔

بتایا گیا ہے کہ شمسی توانائی کے علاوہ کئی دیگر اہم شعبوں میں بھی تعاون پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ صوبے سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ ژانگ چُن شیان نے دورہ پاکستان کے دوران مقامی سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں۔

ژانگ چُن شیان اپنے چار روزہ دورہ پاکستان کے دوران کراچی، اسلام آباد اور گوادر بھی گئے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ژانگ چُن شیان نے اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات بھی کی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی فوجی قیادت سے بھی ملے لیکن اس حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں کہ کن موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نواز شریف اور ژانگ چُن شیان کی ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں، سرحدوں کی مؤثر نگرانی اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

یہ امر اہم ہے کہ چین کا کہنا ہے پاکستان میں موجود انتہاپسند عناصر سنکیانگ میں بھی اپنا اثر و رسوخ بنا سکتے ہیں، جہاں مسلم آبادی اکثریت میں ہے۔ سنکیانگ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Zhang Chunxian

ژانگ چُن شیان اپنے چار روزہ دورہ پاکستان کے دوران کراچی، اسلام آباد اور گوادر بھی گئے

چینی میڈیا میں شائع ہونے والے ژانگ چُن شیان کے بیان میں کہا گیا ہے، ’’پاکستان اور چین کے مابین گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین نہ صرف برادرانہ تعلقات ہیں بلکہ یہ اچھے اقتصادی پارٹنر بھی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اس دورے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کس قدر اچھے ہیں۔‘‘

پاکستان اور چین نے گزشتہ برس توانائی اور انفراسٹرکچر کے سمجھوتوں کو حتمی شکل دی تھی۔ چھیالیس بلین یورو کے ان معاہدوں کو ’پاک چین اقتصادی راہداری‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کے ان منصوبوں کے عوض اسلام آباد حکومت چین کو گوادر میں فری ٹریڈ زون مہیا کرے گی، جس کی وجہ سے چین کی بحیرہ عرب تک رسائی ممکن ہو جائے گی۔