1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی صدر کا برطانیہ میں پرتپاک استقبال

چینی صدر شی جِن پِنگ برطانیہ کے سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وہ آج منگل کے روز برطانوی پارلیمان سے خطاب بھی کر رہے ہیں جبکہ برطانوی ملکہ الزبتھ کے ساتھ کھانے میں بھی شریک ہوں گے۔

چینی صدر یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب برطانیہ کے ایک نئے نیوکلیئر پروگرام کے تحت دونوں ملکوں کے مابین کئی ملین پاؤنڈ کے معاہدے میں چینی سرمایہ کاری کی اطلاع ہے۔ دوسری طرف آج منگل ہی کے روز فولاد کا کاروبار کرنے والی کمپنی ٹاٹا اسٹیل نے برطانیہ میں 1200 ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹاٹا اسٹیل کے کاروبار کو نقصان کی ایک وجہ چین کی طرف سے کم قیمت پر فولاد کی برآمدات ہیں۔

لندن پہنچنے کے بعد چینی صدر جب ملکہ الزبتھ ثانی کے ساتھ ملاقات اور ایک رسمی ضیافت میں شرکت کے لیے بکنگھم پیلس پہنچے تو ان کا نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق چینی صدر کو ایک شاہی بگھی میں بکھنگم پیلس لایا گیا جسے سفید گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ راستے کوچینی اور برطانوی جھنڈوں سے سجایا گیا تھا جبکہ سینکڑوں حامی راستے کے دونوں جانب موجود تھے۔ اس موقع پر کچھ لوگوں نے چینی صدر کے دورے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

بکنگھم پیلس میں چینی صدر شی جِن پِنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لیوآن کا استقبال ملکہ الزبتھ دوئم اور ان کے شوہر پرنس فیلپ کے علاوہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور دیگر نامور شخصیات نے کیا۔ اس موقع پر انہیں 41 توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی۔ چینی صدر اپنے دورے کے پہلے روز آج منگل ہی کو برطانوی پارلیمان سے بھی خطاب کریں گے۔

راستے کوچینی اور برطانوی جھنڈوں سے سجایا گیا تھا

راستے کوچینی اور برطانوی جھنڈوں سے سجایا گیا تھا

20 بلین پاؤنڈز کے معاہدے متوقع

برطانیہ کے سیکرٹری تجارت ساجد جاوید نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جِن پِنگ کے حالیہ دورے کے دوران برطانیہ چین کے ساتھ 20 بلین پاؤنڈز کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کرے گا۔ یہ رقم 31 بلین امریکی ڈالرز کے برابر بنتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ساجد جاوید نے برطانوی پارلیمان کو بتایا، ’’رواں ہفتے چینی صدر کے دورے کے دوران ہم 20 بلین پاؤنڈز کے تجارتی معاہدوں کے اعلانات کریں گے جس سے پورے ملک میں ملازمتوں کو فروغ حاصل ہو گا۔‘‘

اپوزیشن کی طرف سے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں نہ صرف چین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ان سے بات کریں بلکہ چینی کمپنیوں کی طرف سے عالمی مارکیٹ میں لاگت سے بھی کم قیمت پر فولاد کی فروخت کے معاملے کو اٹھائیں۔