1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی شہر تیانجن میں طاقتور دھماکے، 44 ہلاکتیں

شمال مشرقی بندرگاہی شہر تیانجن کے ایک گودام میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 520 بتائی جا رہی ہے، جن میں سے 66 کی حالت نازک ہے۔

China Explosion in Hafenstadt Tianjin

ان طاقتور دھماکوں کے نتیجے میں قریب ہی ایک پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک ہزار سے زیادہ کاریں بھی جل کر راکھ ہو گئیں

شمال مشرقی بندرگاہی شہر تیانجن کے ایک گودام میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 520 بتائی جا رہی ہے، جن میں سے 66 کی حالت نازک ہے۔

پندرہ ملین کی آبادی والا شہر تیانجن دارالحکومت بیجنگ سے 120 کلومیٹر مشرق کی طرف واقع ہے۔ چین کے CCTV کی جانب سے ایک ٹوئٹر پیغام میں ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ صدر شی جِن پِنگ نے متاثرین کو بچانے اور آگ بجھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہدایت کی ہے۔

دھماکے کے مقام پر مقامی وقت کے مطابق نصف شب سے پہلے لگی آگ پر صبح کے وقت بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔ فائر بریگیڈ کی کوئی ایک درجن ٹیموں کے ایک ہزار سے بھی زیادہ ارکان آگ بجھانے میں مصروف رہے۔

گو ابھی بھی آگ مکمل طور پر نہیں بجھائی جا سکی ہے تاہم تیانجن کی مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے احکامات پر آگ بجھانے کی مزید کوششیں تر کر دی گئی ہیں تاکہ کیمیائی مادوں کے ماہرین موقع پر جا کر صورتِ حال کا جائزہ لے سکیں۔ یہ ماہرین یہ جائزہ لیں گے کہ آیا وہاں کوئی زہریلے مادے تو نہیں ہیں اور ماحول کی آلودگی کا تو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان ماہرین کے مشوروں ہی کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آگ بجھانے کی مزید کوششیں کس انداز میں آگے بڑھائی جائیں۔

China Explosion in Hafenstadt Tianjin

مرنے والوں میں فائر بریگیڈ کے بارہ ارکان بھی شامل ہیں، جو آگ بجھانے کے لیے موقع پر پہنچے تھے اور جن کے وہاں پہنچنے کے چالیس منٹ بعد پہلا زور دار دھماکا ہوا تھا

مرنے والوں میں فائر بریگیڈ کے بارہ ارکان بھی شامل ہیں، جو آگ بجھانے کے لیے موقع پر پہنچے تھے اور جن کے وہاں پہنچنے کے چالیس منٹ بعد پہلا زور دار دھماکا ہوا تھا۔

بدھ کو دیر گئے ہونے والے دھماکوں کے باعث کئی کلومیٹر دور تک عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ قریبی عمارتیں کھنڈرات میں بدل گئیں۔ یہ دھماکے اتنے زور دار تھے کہ لوگ یہ سمجھتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے کہ زلزلہ آ گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ اس گودام میں ابھی مزید افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ حکام کی جانب سے ابھی لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

یہ آگ بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق شب تقریباً گیارہ بجے Ruihai نامی ایک لاجسٹک کمپنی میں لگی تھی، جس کے گودام میں مبینہ طور پر ’خطرناک کیمیائی مادے‘ رکھے ہوئے تھے۔ دھماکے سے رات کے اندھیرے میں آگ کا ایک بہت بڑا بادل آسمان کی طرف بلند ہوتا دیکھا گیا۔ ویڈیو فوٹیج میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے لوگ زخمی حالت میں دھماکے کے مقام سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان دھماکوں کے کئی گھنٹے بعد تک بھی یہ بات پوری طرح سے واضح نہیں ہے کہ یہ دھماکے کس وجہ سے ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ تاحال فضا میں کسی قسم کے زہریلے کیمیائی مادوں کی موجودگی کے آثار نہیں آئے گئے۔

China Explosion in Hafenstadt Tianjin

فائر بریگیڈ کی کوئی ایک درجن ٹیموں کے ایک ہزار سے بھی زیادہ ارکان آگ بجھانے میں مصروف رہے

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دھماکوں کی جگہ پر پیلے رنگ کی نامعلوم قسم کی جھاگ دیکھی گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ کسی طرح کا کوئی زہریلا مادہ ہے یا آگ کو بجھانے کی کوششوں کا ایک حصہ۔

یہ دھماکے تیانجن کے صنعتی زون میں ہوئے، جن کے باعث مزید کوئی نصف درجن کمپنیوں کے گودام بھی تباہ ہو گئے۔ قریب ہی ایک پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک ہزار سے زیادہ کاریں بھی جل کر راکھ ہو گئیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات