1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چینی شٹل زمینی مدار میں موجود سیارے سے جُڑ گئی

چین کی ایک شٹل زمین کے گرد خلاء میں گردش کرتے ایک سیارے کے ساتھ کامیابی سے جڑ گئی ہے۔ اس کامیابی کو چین کی طرف سے انسان بردار خلائی اسٹیشن کی تکمیل کی طرف اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

default

چین کی طرف سے بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے والا 'شینزو آٹھ‘ نامی یہ خلائی جہاز پیر 31 اکتوبر کو خلاء کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ اس خلائی جہاز نے پیر کو الصبح چین کے شمال مغرب سے خلاء کی طرف پرواز کی۔

زمین سے پرواز کے دو روز بعد یعنی بدھ کے روز عالمی وقت کے مطابق شام پانچ بجکر 36 منٹ پر’شینزو آٹھ‘ نے زمین سے تین سو تینتالیس کلومیٹر بلندی پر مدار میں گردش کرتے ’تیانگونگ‘ نامی موڈیول سے ’ڈاک‘ کیا، یا عام لفظوں میں اس سے جا کر جڑ گیا۔

شینزو آٹھ‘ نامی خلائی جہاز پیر 31 اکتوبر کو خلاء کے لیے روانہ کیا گیا تھا

شینزو آٹھ‘ نامی خلائی جہاز پیر 31 اکتوبر کو خلاء کے لیے روانہ کیا گیا تھا

ساڑھے دس میٹر لمبے تجرباتی موڈیول ’تیانگونگ‘ کو انیس ستمبر کو لانچ کیا گیا تھا۔ یہ خلاء میں چین کی ’اسپیس لیب‘ یا خلائی تجربہ گاہ کا حصہ ہے۔ چین کی طرف سے 2020ء تک اپنا خلائی اسٹیشن تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔

خلائی شٹل کا خلاء میں موجود کسی جسم یا اسٹیشن سے ملاپ یعنی ’ڈاکنگ‘ چین کے خلائی پروگرام کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ایک مکمل خلائی تجربہ گاہ کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ چین اس عمل کو خوش اسلوبی سے طے کرے کیونکہ اب تک یہ اس مشن کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا رہا ہے۔ چینی خلا نوردوں کے طویل مدت تک خلاء میں قیام کے لیے اس خلائی تجربہ گاہ کی تکمیل ضروری ہے۔

خلا میں میں موجود دو اجسام کا یہ جڑنا یا ڈاکنگ اس لیے ایک مشکل کام ہے کیونکہ زمینی مدار میں یہ اجسام ایک ہی مدار میں ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ جڑتے ہوئے کسی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ یہ اجسام نہایت آہستگی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آئیں، ورنہ دونوں کے تباہ ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔

بدھ کے روز عالمی وقت کے مطابق شام پانچ بجکر 36 منٹ پر’شینزو آٹھ‘ نے ’تیانگونگ‘ نامی موڈیول سے ’ڈاک‘ کیا

بدھ کے روز عالمی وقت کے مطابق شام پانچ بجکر 36 منٹ پر’شینزو آٹھ‘ نے ’تیانگونگ‘ نامی موڈیول سے ’ڈاک‘ کیا

ڈاکنگ میں کامیابی حاصل کرنے سے قبل چینی ’مینڈ اسپیس انجینیئرنگ پراجیکٹ‘ کے چیف ڈیزائنر کا کہنا تھا، ’’خلائی شٹلز کے ملاپ اور ان کی ڈاکنگ کی ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل کر کے ہم چینی خلائی اسٹیشن کی مضبوط بنیاد رکھ سکتے ہیں، ایک بار اگر ہم نے یہ صلاحیت حاصل کرلی تو ہم خلائی اسٹیشن تعمیر کرنے کی بنیادی تکنیک بھی حاصل کر لیں گے، جو کہ خلاء میں ہمارت مزید تجربوں کا دروازہ کھول دے گی۔‘‘

اس کامیابی کے بعد اب چین کی طرف سے اگلے برس یعنی 2012ء میں دو انسان بردار خلائی مشن بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

خیال رہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں چین اب بھی روس اور امریکہ سے بہت پیچھے ہے۔ چینی حکومت نے خلائی شعبے میں مزید سرمایہ وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان / شامل شمس

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM