1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی سفیر کا دعویٰ اور ’چھوٹے صوبوں‘ کے شکوے

پاکستان میں تعینات چینی سفیر سُن وے ڈونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ سی پیک کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے اور ان ترقیاتی منصوبوں کے تحت اب تک تیرہ ہزار پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے تحت جاری مختلف منصوبے اپنے شیڈول سے بھی آگے چل رہے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ منصوبہ بندی نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ان منصوبوں نے اب تک تیرہ ہزار افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے معاون خصوصی برائے ذرائع ابلاغ عاصم خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’چینی سفیر کا یہ کہنا درست ہے کہ سی پیک کے پروجیکٹس نے ملک میں تیرہ ہزار افرادکو روزگار فراہم کیا۔ انجینئرنگ اور انرجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ عام مزدور بھی ان تیرہ ہزار افراد میں شامل ہیں، جنہیں روزگار فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا سی پیک سے ملک میں خوش حالی آئے گی اور مجموعی طور پر سی پیک کے مختلف منصوبوں کے تحت 2030ء تک ستر سے اسی لاکھ افراد کو روز گار کے مواقع فراہم ملیں گے۔

عاصم خان کا کہنا تھا، ’’وزارتِ منصوبہ بندی نے ایک سینٹر فار ایکسیلینس آف سی پیک قائم کیا ہے، جس کا مقصد ان پروجیکٹس سے ہونے والے معاشی، مالیاتی اور سماجی فوائد کے حوالے سے تحقیق کرنا ہے اور ان پر سالانہ رپورٹس تیارکرنا ہے۔‘‘

Karte Map China Pakistan Economic Corridor


انہوں نے اس تاثر کو مستردکیا کہ سی پیک کے لیے لیے جانے والے قرضوں کی شرائط انتہائی سخت ہیں،’’اس طرح کے اعتراضات سیاسی نوعیت کے ہیں اور جو یہ تنقید کر رہے ہیں انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خیبرپختونخواہ کی حکومت بھی ان ہی چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے اور قرضے لے رہی ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’سی پیک کے کچھ منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جیسے کہ کوئٹہ سے گوادر تک کی چھ سو کلو میٹر لمبی سڑک ۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں کئی لنک روڈز بھی پایہء تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ انفراسٹرکچر کے کئی پروجیکٹس پر کام تیزی سے جاری ہے جب کہ انرجی کے کئی منصوبے اس سال اور کئی اگلے سال مکمل ہو رہے ہیں۔‘‘
کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں سی پیک کی بدولت ملک میں خوش حالی آئے گی اور بے روزگار ی کا خاتمہ ہوگا، جس سے ملک کے مختلف حصوں میں خصوصاﹰ بلوچستان میں احساس محرومی ختم ہوگا لیکن بلوچ سیاست دان اس طرح کے تجزیوں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہیں۔

چینیوں کو یہاں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے، پاکستانی سرمایہ کار

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر مملکت برائے صنعت و پیداوار آیت اللہ درانی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اگر چینی سفیر نے ایسا کہا ہے تو صحیح ہی کہا ہوگا لیکن میرے خیال میں ان تیرہ ہزار میں سے زیادہ تر نوکریاں پنجاب میں پیدا ہوئی ہوں گی اور وہیں کے لوگوں کو فراہم بھی کی گئی ہوں گی۔ بلوچ نوجوانوں کو تو روزگار میسر نہیں ہے۔ اگر کچھ افراد کو چوکیدار یا ڈرائیور کے طور پر رکھ لیا ہو تو الگ بات ہے لیکن مجموعی طور پر ہمارے صوبے میں بے روزگاری کی وہی صورتِ حال ہے جو پہلے تھی۔ ہمیں تو پاکستان میں جو پانچ فیصد روزگار کا کوٹہ ہے وہ نہیں ملتا تو سی پیک میں ہمیں کیا روزگار ملے گا۔ ہمارے پاس ابھی بھی روزگار نہیں ہے اور ہمیں نہیں لگتا کہ مستقبل میں بھی ہمیں کوئی سی پیک کی وجہ سے
نوکریاں ملیں گی۔‘‘
سی پیک کے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ پروجیکٹس حاصل کرنے والا سندھ بھی اس حوالے سے شکوے شکایات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ سندھ کے معروف سیاسی تجزیہ نگار عبدالخالق جونیجو نے ڈوئچے ویلے کو اس حوالے سے بتایا، ’’سندھ میں ابھی سی پیک کے اتنے زیادہ منصوبے شروع نہیں ہوئے ہیں لیکن تھر میں جو منصوبہ شروع کیا گیا ہے اس میں مقامی لوگوں کو تو کوئی خاص حصہ روزگار میں نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف روزگار کی فراہمی نہیں۔ اس طرح کے نعرے تو برطانوی اور فرانسسی سامراج نے بھی لگائے تھے۔ جب انگریز آیا تو ہندوستان اشیاء برآمد کرتا تھا اور بعد میں انگریز برآمد کرنے لگا۔ برطانیہ کی ترقی کو ہندوستان میں ہونے والی لوٹ مار سے کیسے علیحدہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ برطانیہ کی طرح چین بھی ایک سامراجی ملک ہے جو روزگار اور ترقی کے نام پر ہمارے وسائل لوٹنے آیا ہے۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ لوگ ان چینی منصوبوں کو صرف روزگار کی فراہمی کے حوالے سے ہی کیوں دیکھتے ہیں۔‘‘

DW.COM