1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کی کوششیں

پولیس کی بڑی تعداد میں موجودگی، انتہائی حفاظت میں حرکت کرتے قافلے، نئی چیک پوسٹیں اور فوجیوں کی اضافی تعیناتی کے باعث پاکستان کا جنوب مغربی ساحلی شہر گوادر ایک قلعے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

یہ سب اقدامات دراصل پاکستانی فوج کی طرف سے کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد چین کی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانا ہے۔ پاکستان جو نہ صرف اسلامی شدت پسندی کے باعث مشکلات کا شکار ہے بلکہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے کیے جانے والے حملے بھی ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں چین کی طرف سے 46 بلین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کو ملک کے معاشی مستقبل کے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سرمایہ کاری چین کے شمال مغربی حصے سے پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی شہر گوادر تک پائپ لائن، ریلوے ٹریکس اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے خرچ کی جانا ہے۔

پاکستانی فوج اور ملکی وزارت دفاع نے سینکڑوں اضافی فوجی اور پولیس اہلکاروں کو پاکستان چین اکنامک کوریڈور کے مغربی حب گوادر بھیج چکی ہے جبکہ مزید تعیناتیاں کی جا رہی ہیں۔ گوادر کے علاقائی پولیس افسر جعفر خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’جلد ہی ہم 700 سے 800 تک نئے پولیس اہلکاروں کو بھرتی کریں گے۔ یہ دراصل چینی باشندوں کی حفاظت کے لیے علیحدہ سکیورٹی یونٹ ہوگا۔ بعد میں ایک نیا سکیورٹی ڈویژن بھی قائم کیا جائے گا۔‘‘

ایک لاکھ کی کے قریب آبادی والے شہر گوادر کے ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار کے مطابق چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے عارضی بندوبست کے طور پر 400 سے 500 فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ غیر ملکی ماہرین اور ورکرز کی حفاظت گوادر میں تو نسبتاﹰ آسان ہے مگر تما تر اکنامک کوریڈرو کے حوالے سے یہ بات اتنی آسان نہیں ہے۔

اکنامک کوریڈو کا مغربی حصہ صوبہ بلوچستان سے گزرتا ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند نہ صرف اکنامک کوریڈور کے مخالف ہیں بلکہ فوجی آپریشن کی زد میں بھی ہیں۔ پھر یہ خیبر پختونخوا میں پاکستان افغانستان کی سرحد کے قریب سے بھی گزرتا ہے اور یہ علاقے پاکستانی طالبان کے علاوہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کا بھی گڑھ رہے ہیں۔

اکنامک کوریڈور کی حفاظت کے لیے الگ فوجی ڈویژن

پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے پاکستان چین اکنامک کوریڈور کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے اس لیے اس کوریڈور کی حفاظت کی ذمہ داری پاکستانی فوج میں گزشتہ چند ماہ کے دوران قائم کیے گئے ایک نئے ڈویژن کو سونپی گئی ہے جو اندازوں کے مطابق 13 ہزار فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے۔

سکیورٹی میں اضافہ محض گوادر میں ہی نہیں کیا گیا بلکہ ایسے اقدامات بلوچستان میں کیے گئے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز احمد بُگٹی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’ہم نے ان علاقوں میں سکیورٹی بڑھا دی ہے جہاں سے کوریڈور ممکنہ طور پر گزرے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی معاشی اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کو یرغمال رکھا جائے۔‘‘

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لُو کینگ کے مطابق اب تک کوریڈور پر ہونے والی پیشرفت بحیثیت مجموعی درست جا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’پاکستانی حکومت چینی اداروں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کافی زیادہ کام کر چکی ہے۔ چین اس پر انتہائی مشکور ہے۔‘‘