1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’چینی دباؤ‘ پر بھارت نے ایغور سماجی کارکن کا ویزا منسوخ کر دیا

بھارت نے جرمنی میں بسنے والے ایک ایغور نسل سماجی کارکن کو دیا گیا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔ ایغوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے دولکان عیسیٰ کو چین نے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

عیسیٰ کو شمالی بھارتی ریاست میں جلا وطن تبتی حکومت کے ایک اجلاس میں شرکت کرنا تھی اور انہیں بھارتی حکومت کی جانب سے سیاحتی ویزا جاری کیا گیا تھا، تاہم اس پر بیجنگ حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے ایس دھت والیا نے تفصیلات بتائے بغیر بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دولکان عیسیٰ کا ویزا منسوخ کر دیا جائے۔

دریں اثناء عیسیٰ نے ایک بھارتی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں کہا کہ حکومت نے انہیں ایک ماہ قبل جاری کیے گئے ویزے کی تنسیخ کے حوالے سے ہفتے کے روز ٹیلی فون پر مطلع کیا۔ انہوں نے تاہم کہا کہ ممکنہ طور پر ایسا چینی حکومت کے دباؤ میں آ کر کیا گیا ہے۔ بیجنگ حکومت نے فی الحال اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

China Xinjiang Unruhen 31.07.2014

سینکیانگ میں تشدد پر چینی حکومت تشویش کا اظہار کرتی ہے

چینی حکومت ایغور اکثریت کے حامل مغربی صوبے سنکیانگ میں تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ان افراد کی جانب سے اپنی ثقافت اور مذہب پر لاگو سختیوں اور پابندیوں کے خلاف ایک عرصے سے تحریک جاری ہے، جسے چینی حکومت سختی سے دباتی آئی ہے۔ یہاں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن کا الزام چینی حکومت مسلم علیحدگی پسندوں پر عائد کرتی ہے۔

سن 2001ء کے بعد سے چینی حکومت نے ان مسلم علیحدگی پسندوں کو دہشت گرد قرار دینا شروع کیا، جب کہ داڑھیوں اور برقعوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ ایغور نسل آبادی کا کہنا ہے کہ اس طرح چینی حکومت انہیں معاشرتی دھارے سے مزید کاٹتی جا رہی ہے۔ اس سے قبل اس آبادی کی جانب سے الزامات عائد کیے جاتے رہیں کہ انہیں نسل کی بنیاد پر ملازمتوں کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا رہا ہے، جب کہ یہی آوازیں کئی مواقع پر پرتشدد احتجاج کا رنگ بھی اختیار کرتی رہی ہیں۔