1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی حکومت کے ناقد کو گیارہ سال کی قید

چین میں جمعہ کے روز ایک عدالت نے معروف مصنف اور حکومتی ناقد لِیُوشِیاؤبو کو ریاست کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزام میں گیارہ سال قید کی سزا سنا دی۔ اس عدالتی فیصلے پر امریکی اور یورپی رہنماؤں نے شدید تحفظات ظاہر کئے ہیں۔

default

مصنف اور حکومتی ناقد لِیُوشِیاؤبو

بیجنگ میں ایک عدالت کی طرف سے شیاؤبو کو یہ سزا سنائے جانے کے بعد امریکہ نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دریں اثناء انسانی حقوق کے اداروں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی سزا ثابت کرتی ہے کہ چین میں سیاسی ماحول مسلسل اور بھی گھٹن کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

53 سالہ لیوشیاؤبو کو حکومت مخالف اشتعال انگیزی کے الزام میں چھ ماہ پہلے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے ’چارٹر 8‘ نامی ایک تصنیف میں بطور معاون مصنف اپنی خدمات سر انجام دی تھیں۔ اس چارٹر میں کمیونسٹ نظام حکومت والے چین میں سیاسی اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر مغربی ممالک نے چین کے، انسانی حقوق کے حوالے سے اب تک کے ریکارڈ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ بالخصوص امریکہ نے چین پر زور دیا کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور عوام کو اپنے سیاسی نظریات کے اظہار کا موقع فراہم کرے۔

Prozess gegen Liu Xiaobo / China / Peking

لیو کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئےتھے

بیجنگ میں جمعہ کے عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر موجود ایک امریکی سفارت کار جارج مئے نے کہا کہ امریکہ زور دیتا رہے گا کہ چینی حکومت لیوشیاؤبوکو رہا کرے۔ انہوں نے کہا: ’’ امریکی حکومت لیو کو گیارہ سال کی قید سنائے جانے پر شدید تحفظات رکھتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق چین میں پرامن طریقے سے اپنے سیاسی نظریات کا اظہار کرنے کی روایت مضبوط نہیں ہے۔‘‘

اس مقدمے کی سماعت کے دوران یورپی اور امریکی نمائندوں یا انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے دیگر غیر ملکی کارکنوں میں سے کسی کو بھی کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ 53 سالہ مصنف لیو کو اس سے قبل سن 1989 میں جمہوریت کے حق میں کئے گئے مظاہروں میں حصہ لینے پر بھی سزا سنائی گئی تھی۔ دوسری طرف چینی وزارت خارجہ نے لیوشیاؤبو کے خلاف مقدمے کے فیصلے پر بیرونی حکومتوں اور اداروں کی تنقید کو چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کے لئے سرگرم بین الاقوامی تنظیموں نے لیو کے خلاف اس مقدمےکو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے لگائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان تنظیموں نےعدالتی کارروائی کی شفافیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

Prozessauftakt gegen Liu Xiaobo in China

امریکی سفارت کار جورج مئے نے عدالتی فیصلے پر تحفظات ظاہر کئے ہیں

لیو کی اہلیہ نے خبر رساں ادارے AFP کو بتایا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گی۔ Liu Xia نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں لیو منگل کو اپنے وکیل سے ملاقات کریں گے۔

اس مقدمے کی سماعت کے آخری روز عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی سفارت کاروں کو ایک مرتبہ پھر کمرہ عدالت تک جانے سے روک دیا گیا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM