1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

چینی حکومت کے ناقد آئی وے وے ضمانت پر رہا

چینی حکومت نے ملک کے معروف فن کار اور کمیونسٹ حکومت کے ناقد آئی وے وے کو تین ماہ کی حراست کے بعد ضمانت پہ رہا کر دیا ہے۔

default

آئی وے وے

آئی وے وے کو تین ماہ قبل چینی حکومت نے بیجنگ سے حراست میں لیا تھا۔ آئی وے وے کی گرفتاری چینی حکومت کے اس کریک ڈاؤن کا حصہ تھی جو اس نے ملک میں جمہوریت پسندوں اور اصلاحات کے خواہش مند افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر جاری رکھا ہوا ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق پولیس نے آئی وے وے کو اس ’ٹیکس چوری اور ناسازی طبع کا اعتراف‘ کرنے کے بعد رہا کیا۔ تاہم آئی نے اپنے گھر لوٹنے کے بعد ایک برطانوی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طبیعت بالکل اچھی ہے۔ آئی وے وے نے اپنی حراست سے متعلق تفصیلات دینے سے معذرت کر لی، اور کہا کہ وہ گھر واپس لوٹنے پر بہت خوش ہیں۔

Protest gegen die Inhaftierung des chinesischen Kuenstlers Ai Weiwei in Berlin Flash-Galerie

جرمنی میں آئی وے وے کی رہائی کے لیے ہونے والا ایک مظاہرہ

آئی وے وے کو تین اپریل کو بیجنگ ایئر پورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ہانگ کانگ کے لیے پرواز کرنے والے تھے۔ ان کی گرفتاری پر دنیا بھر کے فن کاروں نے احتجاج کیا۔ امریکہ، یورپی یونین، اور بہت سے مغربی ممالک جو چین میں انسانی حقوق کی صورت حال پر پہلے ہی سے تنقید کرتے رہے ہیں، نے بھی آئی وے وے کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ آئی وے وے چین کے پہلے فن کار یا حکومت کے ناقد نہیں ہیں جنہیں کمیونسٹ حکمرانوں نے گرفتار یا نظر بند کیا ہو۔ چین میں انسانی حقوق کے متعدد کارکن اور جمہوریت پسند فن کار پابند سلاسل ہیں۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے اپنے ایک بیان میں آئی وے وے کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق آئی وے وے کی رہائی چینی حکومت کی جانب سے محض ایک رسمی سی کارروائی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ برطانیہ اور جرمنی کا دورہ کرنے والے ہیں، اور ان ممالک میں آئی وے وے کے کام کو بے حد سراہا جاتا ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے آئی وے وے کو رہا کر کے چینی حکومت نے وزیر اعظم جیاباؤ کے دورے کے موقع پر چینی حکومت پر تنقید کی شدّت کو کم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM