1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی افغان تعلقات کے ساٹھ برس اور غیر معمولی گرمجوشی

چین اور افغانستان دو طرفه تعلقات کے ساٹھ برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، جب کہ ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں غیر معمولی گرم جوشی دیکهنے میں آ رہی ہے۔ کیا چین بھی افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانا چاہتا ہے؟

آج (منگل 3 نومبر) کو چینی نائب صدر لی یو وان چاو نے کابل کے صدارتی محل میں میزبان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے کسی اعلیٰ چینی عہدیدار کا یہ پہلا دورہ ہے۔

دونوں رہنماوں کی موجودگی میں تین یادداشتی قراردادوں پر دستخط ہوئے، جن کے تحت بیجنگ حکومت افغان دارالحکومت کابل کے چار داخلی راستوں پر بارودی مواد کی روک تهام کی خاطر بڑے اسکینرز نصب کرے گی، دارالحکومت کابل میں اعلیٰ معیار کے رہائشی اپارٹنمنٹس تیار ہوں گے اور افغان طلبا کے لیے سینکڑوں اسکالرشپس مہیا کی جائیں گی۔

صدر غنی نے گزشته برس ستمبر میں اقتدار سنبهالنے کے بعد پہلا غیر ملکی دوره سعودی عرب کا کیا تها تاہم وه دوره زیاده مذہبی نوعیت کا تها، جس کے فوری بعد صدر غنی ایک بڑے وفد کے ہمراه بیجنگ پہنچے تهے، جہاں انهوں نے حکومتی عہدیداروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں۔

افغانستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل شعبه معدنیات میں اب تک کی سب سے زیاده سرمایه کاری بهی چین ہی کی ہے، جو دیگر ترقی یافته ممالک کی طرح اپنے کارخانوں کے لیے دنیا بهر سے خام مال کے حصول میں مگن ہے۔

کابل پہنچنے پر چینی نائب صدر کا افغان حکام نے سرخ قالین پر استقبال کیا۔ صدر غنی نے آج ایک مرتبه پهر افغانستان میں امن و سلامتی کے حوالے سے چین کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا که چین افغانستان میں استحکام کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے، ’’میں کئی بار یه واضح کر چکا ہوں که افغانستان میں جاری جنگ محض داخلی جنگ نہیں بلکه علاقائی اور عالمی نوعیت کی جنگ ہے۔‘‘

تجزیه نگار عتیق الرحمان زلاند کے بقول چین واضح طور پر اب اس خطے میں محض ایک اقتصادی طاقت سے بڑھ کر سیاسی قوت کا روپ دهارنے کی جانب گامزن ہے، ’’پاکستان میں اقتصادی راہداری اور افغانستان سمیت خطے کے مختلف ممالک میں سرمایه کاری اور بڑهتی هوئی سیاسی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں که چین علاقائی سطح پر معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکهنا چاہتا ہے۔‘‘

زلاند کے بقول، ’’اب کیوں کہ امریکا اور یورپ نے واضح کردیا ہے که وه طویل مدت تک یہاں (افغانستان) میں رہیں گے تو چین بهی سیاسی میدان میں کود پڑا ہے اور اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔

واضح رہے که گزشته ماه افغانستان نے باضابطه طور پر شنگهائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تها۔ چینی نائب صدر نے آج اپنے خطاب میں کہا که افغان حکومت کے چیف ایگزیکٹیو عبدالله عبدالله آئنده ماه شنگهائی تعاون تنظیم کے بیجنگ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں دو طرفه اور علاقائی تعاون مزید بڑهانے پر بات چیت کی جائے گی۔